اور نرمی اور آب و تاب رکھتا ہے کہ اگر کسی سرگرم نکتہ چین اور سختؔ مخالف
کیاؔ تھا۔ آفتاب کی طرح ان کے سامنے روشن ہوگیا اور چونکہ فطرتاً یہ بات انسان کی عادت میں داخل ہے کہ اسی شخص کے صبر کی عظمت اور بزرگی انسان پر کامل طور پر روشن ہوتی ہے کہ جو بعد زمانہ آزارکشی کے اپنے آزار دہندہ پر قدرت انتقام پاکر اس کے گناہ کو بخش دے۔ اس وجہ سے مسیح کے اخلاق کہ جو صبر اور حلم اور برداشت کے متعلق تھے۔ بخوبی ثابت نہ ہوئے اور یہ امر اچھی طرح نہ کھلا کہ مسیح کا صبر اور حلم اختیاری تھا یا اضطراری تھا۔ کیونکہ مسیح نے اقتدار اور طاقت کا زمانہ نہیں پایا تا دیکھا جاتا کہ اس نے اپنے موذیوں کے گناہ کو عفو کیا یا انتقام لیا۔ برخلاف اخلاق آنحضرت صلوسلم عل کہ وہ صدہا مواقع میں اچھی طرح کھل گئے اور امتحان کئے گئے اور ان کی صداقت آفتاب کی طرح
آواز کرتا ہے برخلاف صورت دوم کے کہ اس میں اکثر کامل دعاؤں پر حضرت احدیت کی طرف سے جواب صادر ہونا مشہود ہوا ہے۔ اور خواہ سو مرتبہ دعا اور سوال کرنے کا اتفاق ہو۔ اس کا جواب سو مرتبہ ہی حضرت فیاض مطلق کی طرف سے صادر ہوسکتا ہے جیسا کہ متواتر تجربہ خود اس خاکسار کا اس بات کا شاہد ہے۔ اس قسم کے الہام میں بھی ایک بزرگ پیشگوئی اس عاجز کو یاد ہے جس سے اس خاکسار نے مشرف من اللہ ہوکر ایک قادیان کے آریہ سماج کے ممبر کو کہ جو اب بھی اس جگہ صحیح و سالم موجود ہے۔ پیشگوئی کے پورے ہونے پر ملزم و لاجواب کیا تھا۔ یہ ایسی بعید از قیاس اور ظاہراً بکلّی محال و ممتنع الوقوع معلوم ہوتی تھی جس کو سن کر اس آریہ نے سخت انکار کیا اور اس بات پر ضد کر بیٹھا کہ ہرگز ممکن ہی نہیں کہ ایسی بات دور از قیاس واقعہ ہوجائے۔ چنانچہ بالآخر وہ بات بعینہ اسی طور پر ظہور میں آئی جیسی پہلے کہی گئی تھی۔ اور یہ پیشگوئی نہ صرف اس آریہ کو بتلائی گئی تھی بلکہ اور کئی لوگوں کو بتلائی گئی تھی کہ جو اب تک موجود ہیں اور کسی کو انکار کرنے کی جگہ باقی نہیں۔ چونکہ یہ پیشگوئی ایک طول طویل واقعہ پر مشتمل ہے۔ لہٰذا بالفعل اس کی تصریح کی ضرورت نہیں۔ بہرحال سمجھنا چاہئے کہ الہام ایک واقعی اور یقینی صداقت ہے جس کا مقدس اور پاک چشمہ دین اسلام ہے۔ اور خدا جو قدیم سے صادقوں کا رفیق ہے۔ دوسروں پر یہ نورانی دروازہ ہرگز نہیں کھولتا اور اپنی خاص نعمت غیر کو ہرگز نہیں دیتا۔ اور کیونکر دےؔ ۔ کیا ممکن ہے کہ جو شخص اپنے گھر کے تمام دروازے