​ بےؔ نظیری ہے کہ جوہریک طالب حق کو آسانی سے سمجھ آسکتی ہے۔ یعنے یہ کہ ​ سب سے اول قدم حضرت خاتم الرسل محمد مصطفیٰ صلوسلم عل کا ہے۔ کیونکہ آنحضرت صلوسلم عل پر کمال وضاحت سے یہ دونوں حالتیں وارد ہوگئیں اور ایسی ترتیب سے آئیں۔ کہ جس سے تمام اخلاق فاضلہ آنحضرت صلوسلم عل مثل آفتاب کے روشن ہوگئے اور مضمون 3 ۱؂ کا بہ پایہ ثابت پہنچ گیا۔ اور آنحضرت صلی۱ للہ علیہ وسلم کے اخلاق کا دونوں طور پر علیٰ وجہ الکمال ثابت ہونا تمام انبیاء کے اخلاق کو ثابتؔ کرتا ہے کیونکہ آنجناب نے ان کی نبوت اور ان کی کتابوں کو تصدیق کیا اور ان کا مقرب اللہ ہونا ظاہر کردیا ہے۔ پس اس تحقیق سے یہ اعتراض بھی بالکل دور ہوگیا کہ جو مسیح کے اخلاق کی ​ گزرا ہوگا۔ ہم نے سنا تھا کہ ایک پادری صاحب نے یہ پیشگوئی کی ہے کہ اب تین برس کے اندر اندر حضرت مسیح آسمان سے پادریوں کی مدد کے لئے اتر آئیں گے۔ پھر شاید ایک مرتبہ ہم نے منشور محمدؔ ی یا کسی اور اخبار میں پڑھا ہے کہ ایک بنگلور کے پادری نے بھی کچھ ایسا ہی وعدہ کیا تھا۔ بہرحال مدت ہوئی کہ وہ تین برس کا وعدہ گزر بھی گیا۔ مگر آج تک مسیح کو آسمان سے اترتا کسی نے نہیں دیکھا اور یہ پیشگوئی پادریوں کی ایسی جھوٹی ہوئی جیسا بعض نجومی نومبر ۸۱ء ؁ کے مہینے میں قیامت کا قائم ہونا سمجھ بیٹھے تھے۔ اور واضح رہے کہ ہم اس سے انکار نہیں کرتے کہ کسی پادری کو مسیح کے نازل ہونے کے بارے میں خواب آئی ہو۔ مگر ہمارا یہ منشاء ہے کہ پادریوں کی خوابیں بباعث کفر اور عداوت حضرت خاتم الانبیاء کے اکثر دروغ بے فروغ نکلتی ہیں اور اگر کوئی خواب شاذ و نادر کسی قدر سچّی ہو۔ تو وہ مشتبہ اور مبہم ہوتی ہے۔ پس اگر مسیح کے بارہ میں کہ جو ان کو خواب آئی۔ اس کو اسی قسم دوم میں داخل کریں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ مسیح سے مراد عالم رؤیا میں کوئی کامل فرد امّت محمدیہ کا ہے۔ کیونکہ قدیم سے یہ تجربہ ہوتا چلا آیا ہے کہ جب کوئی عیسائی اپنی خواب دیکھتا ہے کہ اب مسیح آنے والا ہے کہ جو دین کو تازہ کرے گا۔ یا اگر کوئی ہندو دیکھتا ہے کہ اب