​ اُس کی طرف متوجہ ہونا تضییع اوقات ہے۔ ایسا ہی ایک دوسری وجہ ​ حالتوں سے کہ جو ہزارہا نعمتوں پر مشتمل ہیں متمتع کرے۔ لیکن ان دونوں حالتوں کا زمانہ وقوع ہریک کے لئے ایک ترتیب پر نہیں ہوتا۔ بلکہ حکمت الٰہیہ بعض کےؔ لئے زمانہ امن و آسائش پہلے حصہ عمر میں میسر کردیتی ہے اور زمانہ تکالیف پیچھے سے اور بعض پر پہلے وقتوں میں تکالیف وارد ہوتی ہیں اور پھر آخرکار نصرت الٰہی شامل ہوجاتی ہے اور بعض میں یہ دونوں حالتیں مخفی ہوتی ہیں اور بعض میں کامل درجہ پر ظہور و بروز پکڑتی ہیں اور اس بارے میں ​ اور یہ اُسی کی سزا ہے کہ تم ہندو اور دین اسلام سے خارج ہو۔ شاید اُن کو گراں ہی گزرا ہوگا۔ مگر بات سچی تھی جس کی سچائی پانچویں یاؔ چھٹے محرم میں ظہور میں آگئی یعنے پنجم یا ششم محرم الحرام میں مبلغ پچاس روپے جن کو جوناگڈھ سے شیخ محمد بہاؤ الدین صاحب مدار المہام ریاست نے کتاب کے لئے بھیجا تھا۔ کئی لوگوں اور ایک آریہ کے روبرو پہنچ گئے۔ والحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ اسی طرح ایک مرتبہ خدا نے ہم کو خواب میں ایک راجہ کے مرجانے کی خبر دی۔ اور وہ خبر ہم نے ایک ہندو صاحب کو کہ جو اب پلیڈری کا کام کرتے ہیں بتلائی۔ جب وہ خبر اسی دن پوری ہوئی تو وہ ہندو صاحب بہت ہی متعجب ہوئے کہ ایسا صاف اور کھلا ہوا علم غیب کا کیونکر معلوم ہوگیا۔ پھر ایک مرتبہ جب انہیں وکیل صاحب نے اپنی وکالت کے لئے امتحان دیا تو اسی ضلع میں سے ان کے ساتھ اسی سال میں بہت سے اور لوگوں نے بھی امتحان دیا۔ اس وقت بھی مجھ کو ایک خواب آئی اور میں نے اس وکیل صاحب کو اور شاید تیس یا چالیس اور ہندوؤں کو جن میں سے کوئی تحصیلدار کوئی سرشتہ دار کوئی محرر ہے بتلایا کہ ان سب میں سے صرف اس شخص مقدم الذکر کا پاس ہوگا اور دوسرے سب امیدوار فیل ہوجائیں گے۔ چنانچہ بالآخر ایسا ہی ہوا۔ اور ۱۸۶۸ ؁ء میں اس وکیل صاحب کے خط سے اس جگہ قادیان میں یہ خبر ہم کو مل گئی۔ والحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ اور اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جس طرح ہمارے مخالفین کی خوابیں دنیا کے امور میں اکثر بے اصل اور دروغ بے فروغ نکلتی ہیں۔ ویسا ہی دینیات میں اُن کا مغشوش اور بے سروپا ہونا ہمیشہ ثابت ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں میں جس کو آٹھ یا نو برس کا عرصہ