خدا کا خوف نہیں اور محض خبث باطنی سے مفسدوں کیؔ طرح بیہودہ گفتگو کرتا ہے۔
دولتؔ سے دل نہ لگانا، دولت سے مغرور نہ ہونا، دولتمندی میں امساک اور بخل اختیار نہ کرنا اور کرم اور ُ جود اور بخشش کا دروازہ کھولنا اور دولت کو ذریعہ نفس پروری نہ ٹھہرانا اور حکومت کو آلہ ظلم و تعدی نہ بنانا۔ یہ سب اخلاق ایسے ہیں کہ جن کے ثبوت کے لئے صاحب دولت اور صاحب طاقت ہونا شرط ہے۔ اور اسی وقت بہ پایہ ثبوت پہنچتے ہیں کہ جب انسان کے لئے دولت اور اقتدار دونوں میسر ہوں۔ پس چونکہ بجز زمانہ مصیبت وادبار و زمانہ دولت و اقتدار یہ دونوں قسم کے اخلاق ظاہر نہیں ہوسکتے۔ اس لئے حکمت کاملہ ایزدی نے تقاضا کیا کہ انبیاء اور اولیاء کو ان دونوں طور کی
اور کامل مسلمان کو بہت ہی کم اتفاق ہوتا ہے کہ اس کی خواب بے اصل اور اضغاث احلام میں داخل ہو۔ کیونکہ وہ پاک دل اور پاک مذہب ہے اور حضرت احدیّت سے سچا رابطہ رکھتا ہے برخلاف منکر اسلام کے کہ جو بباعث ناپاک دلی اور ناراستی مذہب کے گویا ایک نجاست میں پڑا ہوا ہے اس کو بہت ہی کم اتفاق ہوتا ہے کہ اس کی کوئی خواب سچی ہو۔ پھر تجربہ سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اگر کسی منکر اسلام کی شاذ و نادر کوئی بعض خواب کبھی سچی بھی ہو تو اس میں یہ شرط ہے کہ وہ منکر کوئی معاند پادری یا پنڈت نہ ہو بلکہ کوئی سیدھا سادھا ہندو یا غریب عیسائی ہو۔ جس کو اپنے مذہب پر کچھ ایسا اعتقاد نہ ہو۔ نہ اسلام سے کچھ بغض و کینہ ہو۔ اور پھر یہ بھی تجارب کثیرہ سے ثابت ہوا ہے کہ جو کسی غریب ہندو یا عیسائی کی کبھی کسی حالت میں خواب سچی ہوجائے تو وہ خطا اور غلطی کی آمیزش سے بکلی پاک اور صاف نہیں ہوتی۔ بلکہ کچھ نہ کچھ کمی بیشی اور پراگندگی اور افراط تفریط ضرور اس میں ہوتا ہے۔ ہم کو یاد ہے کہ محرم ۱۲۹۹ ہجری کی پہلی یا دوسری تاریخ میں ہم کو خواب میں یہ دکھائی دیا کہ کسی صاحب نے مدد کتاب کے لئے پچاس روپیہ روانہ کئے ہیں۔ اسی رات ایک آریہ صاحب نے بھی ہمارے لئے خواب دیکھی کہ کسی نے مدد کتاب کے لئے ہزار روپیہ روانہ کیا ہے۔ اور جب انہوں نے خواب بیان کی تو ہم نے اسی وقت ان کو اپنی خواب بھی سنا دی اور یہ بھی کہہ دیا کہ تمہاری خواب میں انیس حصے جھوٹ مل گیا ہے۔