مسلمان ہونے پر مستعد ہیں۔ کیونکہ جسؔ کی نیت میں حق کی طلب نہیں اور دل میں ​ بلند تر ہوگئی اور جو تقرب کے اعلیٰ درجات تک پہنچ گئی۔ اور دوسرا حصہ انبیاء اور اولیاء کی عمر کا فتح میں، اقبال میں، دولت میں بمرتبۂ کمال ہوتا ہے تا وہ اخلاق ان کے ظاہر ہوجائیں کہ جن کے ظہور کے لئے فتح مند ہونا، صاحب اقبال ہونا، صاحب دولت ہونا، صاحب اختیار ہونا، صاحب اقتدار ہونا، صاحب طاقت ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ اپنے دکھ دینے والوں کے گناہ بخشنا اور اپنے ستانے والوں سے درگزر کرنا اور اپنے دشمنوں سے پیار کرنا اور اپنے بداندیشوں کی خیرخواہی بجا لانا۔ ​ مذہب اسلام سے خارج ہیں۔ کوئی کوئی سچی خواب دیکھ لیتے ہیں۔ مگر ان میں اور مسلمانوں کی خوابوں میں کہ جو خدا کے رسول مقبول کا کامل اتباع اختیار کرتے ہیں۔ کئی طور سے صریح فرق ہے۔ منجملہ ان فرقوں کے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں کو سچی خوابیں کثرت سے آتی ہیں جیسا ان کی نسبت خدا تعالیٰ نے آپ وعدہ دے رکھا ہے اور فرمایا 3۔ ۱؂ لیکن کفار اور منکرین اسلام کو اس کثرت سے سچی خوابیں ہرگز نصیب نہیں ہوتیں بلکہ ان کا ہزارم حصہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس کا ثبوت ہماری ان ہزارہا سچی خوابوں کے ثبوت سے ہوسکتا ہے جن کو ہم نے قبل از وقوع صدہا مسلمانوں اور ہندوؤں کو بتلا دیا ہے اور جن کے مقابلہ سے غیر قوموں کا عاجز ہونا ہم ابتدا سے دعویٰ کررہے ہیں۔ اور ایک یہ فرق ہے کہ مسلمان کی خواب اکثر اوقات نہایت عالی شان اور مہمات عظیمہ کی بشارت اور خوشخبری پر مشتمل ہوتی ہے اور کافر کی خواب اکثر اوقات امور خسیسہ میں اور ہیچ اور بے قدر ہوتی ہے اور ذلت اور ناکامی کے مکروہ آثار اس میں نمودار ہوتے ہیں۔ اور اس کے ثبوت کے لئے بھی ہماری ہی خوابوں پر بہ نظر انصاف غور کرنا کافی ہے۔ اورؔ اگر کوئی منکر ہو تو ایسی عالی شان خوابیں کسی غیر مذہب کی ہمارے سامنے پیش کرکے اور ثابت کرکے دکھلا وے۔ اور ایک فرق یہ ہے کہ مسلمان کی خواب نہایت راست اور منکشف ہوتی ہے۔