​ یہ بحث محض طلب حق کیؔ غرض سے کرتے ہیں اور اپنا پورا پورا جواب پانے سے ​ شہرۂ آفاق ہوتی جس سے وہ ایسے ارجمند ٹھہرے جن کا کوئی مانند نہیں اور ایسے یگانہ ٹھہرے جن کا کوئی ہم جنس نہیں اور ایسے فرد الفرد ٹھہرے جن کا کوئی ثانی نہیں اور ایسے غیب الغیب ٹھہرے جن تک کسی ادراک کی رسائی نہیں اور ایسے کامل اور بہادر ٹھہرےؔ کہ گویا ہزارہا شیر ایک قالب میں ہیں اور ہزارہا پلنگ ایک بدن میں جن کی قوّت اور طاقت سب کی نظروں سے ​ اور بامحبت تھے کہ جیسے دو حقیقی بھائی ہوتے ہیں اور جیسے قدیم سے دو رفیق اور دلی دوست ہوتے ہیں اور بعد اس کے اُسی مکان میں جہاں اب یہ عاجز اس حاشیہ کو لکھ رہا ہے۔ میں اور مسیح اور ایک اور کامل اور مکمل سید آل رسول دالان میں خوشدلی سے ایک عرصے تک کھڑے رہے اور سید صاحب کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔ اس میں بعض افراد خاصہ امت محمدیہ کے نام لکھے ہوئے تھے اور حضرت خداوند تعالیٰ کی طرف سے ان کی کچھ تعریفیں لکھی ہوئی تھیں۔ چنانچہ سید صاحب نے اس کاغذ کو پڑھنا شروع کیا جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ مسیح کو امت محمدیہ کے ان مراتب سے اطلاع دینا چاہتے ہیں کہ جو عنداللہ ان کے لئے مقرر ہیں اور اس کاغذ میں عبارت تعریفی تمام ایسی تھی کہ جو خالص خدائے تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ سو جب پڑھتے پڑھتے وہ کاغذ اخیر تک پہنچ گیا اور کچھ تھوڑا ہی باقی رہا۔ تب اس عاجز کا نام آیا۔ جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عبارت تعریفی عربی زبان میں لکھی ہوئی تھی ھو منی بمنزلۃ توحیدی و تفریدی فکاد ان یعرف بین الناس۔ یعنے وہ مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید اور تفرید۔ سو عنقریب لوگوں میں مشہور کیا جائے گا۔ یہ اخیر فقرہ فکاد ان یعرف بین الناس اسی وقت بطور الہام بھی القا ہوا۔ چونکہ مجھ کو اس روحانی علم کی اشاعت کا ابتداء سے شوق ہے۔ اس لئے یہ خواب اور یہ القا بھی کئی مسلمانوں اور کئی ہندوؤں کو جو اب تک قادیانؔ میں موجود ہیں اسی وقت بتلایا گیا۔ اب دیکھئے کہ یہ خواب اور یہ الہام بھی کس قدر عظیم الشان اور انسانی طاقتوں سے باہر ہے۔ اور گو ابھی تک یہ پیشگوئی کامل طور پر پوری نہیں ہوئی۔ مگر اس کا اپنے وقت پر پورا ہونا بھی انتظار کرنا چاہئے۔ کیونکہ خدا کے وعدوں میں ممکن نہیں کہ تخلّف ہو۔ اور اس جگہ یاد رہے کہ اگرچہ کبھی کبھی ایسے لوگ بھی کہ جو