​ میںؔ ہمارے پاس بھیج دیں تا وہ اس کے کسی مقام مناسب میں بطور حاشیہ مندرج ہوکر شائع ​ یہ ہوتا ہے کہ ان کے ہریک قسم کے اخلاق ظاہر ہوں اور بہ پایہ ثبوت پہنچ جائیں۔ سو خدائے تعالیٰ اسی ارادے کو پورے کرنے کی غرض سے ان کی نورانی عمر کو دو حصہ پر منقسم کردیتا ہے۔ ایک حصہ تنگیوں اور مصیبتوں میں گزرتا ہے اور ہر طرح سے دکھ دیئے جاتے ہیں اور ستائے جاتے ہیں تا وہ اعلیٰ اخلاق ان کے ظاہر ہوجائیں کہ جو بجز سخت تر مصیبتوں کے ہرگز ظاہر اور ثابت نہیں ہوسکتے۔ اگر ان پر وہ سخت تر مصیبتیں نازل نہ ہوں۔ تو یہ کیونکر ثابت ہو کہ وہ ایک ایسی قوم ہے کہ مصیبتوں کے پڑنے سے اپنے مولیٰ سے بے وفائی نہیں کرتے بلکہ اور بھی آگے قدم بڑھاتے ہیں۔ اور خداوند کریم کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے سب کو چھوڑ کر انہیں پر نظرِ عنایت کی۔ ​ کامل تابعین پر جو اہل اسلام ہیں ان کی تابعداری کی وجہ سے اور نیز اس باعث سے کہ وہ اپنے رسول کے علوم کے وارث ہیں۔ بعض اسرار پوشیدہ ان پر بھی کھولتا ہے تا ان کے صدق مذہب پر ایک نشان ہو۔ لیکن دوسری قومیں جو باطل پر ہیں جیسے ہندو اور ان کے پنڈت اور عیسائی اور ان کے پادری۔ وہ سب ان کامل برکتوں سے بے نصیب ہیں۔ میرا یہ کہنا ہی تھا کہ وہ شخص اس بات پر اصراری ہوگیا کہ اگر اسلام کے متبعین کو دوسری قوموں پر ترجیح ہے تو اسی موقع پر اس ترجیح کو دکھلانا چاہئے۔ اس کے جواب میں ہر چند کہا گیا کہ اس میں خدا کا اختیار ہے انسان کا اس پر حکم نہیں مگر اس آریہ نے اپنے انکار پر بہت اصرار کیا۔ غرض جب میں نے دیکھا کہ وہ آنحضرت صلوسلم عل کی پیشگوئیوں اور دین اسلام کی عظمتوں سے سخت منکر ہے۔ تب میرے دل میں خدا کی طرف سے یہی جوش ڈالا گیا کہ خدا اس کو اسی مقدمہ میں شرمندہ اور لاجواب کرے۔ اور میں نے دعا کی کہ اے خداوند کریم تیرے نبی کریم کی عزت اور عظمت سے یہ شخص سخت منکر ہے اور تیرے نشانوں اور پیشین گوئیوں سے جو تو نے اپنے رسول پر ظاہر فرمائیں سخت انکاری ہے اور اس مقدمہ کی آخری حقیقت کھلنے سے یہ لاجواب ہوسکتا ہے اور تو ہر بات پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اور کوئی امر تیرے علم محیط سے مخفی نہیں۔ تب خدا نے جو اپنے سچے دین اسلام کا حامی ہے اور اپنے رسول کی عزت اور عظمت