​ ہوؔ جائے۔ مگر ایسے سوال کے پیش کرنے میں یہ شرط بھی بخوبی یاد رہے کہ جو صاحب ​ اورؔ انہیں کو اس لائق سمجھا کہ اس کے لئے اور اس کی راہ میں ستائے جائیں۔ سو خدائے تعالیٰ ان پر مصیبتیں نازل کرتا ہے تا ان کا صبر، ان کا صدق قدم، ان کی مردی، ان کی استقامت، ان کی وفاداری، ان کی فتوت شعاری لوگوں پر ظاہر کرکے الاستقامۃ فوق الکرامۃ کا مصداق ان کو ٹھہراوے۔ کیونکہ کامل صبر بجز کامل مصیبتوں کے ظاہر نہیں ہوسکتا اور اعلیٰ درجہ کی استقامت اور ثابت قدمی بجز اعلیٰ درجہ کے زلزلے کے معلوم نہیں ہوسکتی اور یہ مصائب حقیقت میں انبیاء اور اولیاء کے لئے روحانی نعمتیں ہیں جن سے دنیا میں ان کے اخلاق فاضلہ جن میں وہ بے مثل و مانند ہیں ظاہر ہوتے ہیں اور آخرت میں ان کے درجات کی ترقی ہوتی ہے۔ ​ چاہتا ہے۔ رات کے وقت رؤیا میں کل حقیقت مجھ پر کھول دی۔ اور ظاہر کیا کہ تقدیر الٰہی میں یوں مقدّر ہے کہ اس کی مثل چیف کورٹ سے عدالت ماتحت میں پھر واپس آئے گی اور پھر اس عدالت ماتحت میں نصف قید اس کی تخفیف ہوجائے گی مگر بری نہیں ہوگا۔ اور جو اس کا دوسرا رفیق ہے وہ پوری قید بھگت کر خلاصی پائے گا اور بری وہ بھی نہیں ہوگا۔ پس میں نے اس خواب سے بیدار ہوکر اپنے خداوند کریم کا شکر کیا جس نے مخالف کے سامنے مجھ کو مجبور ہونے نہ دیا اور اسی وقت میں نے یہ رؤیا ایک جماعت کثیر کو سنا دیا اور اس ہندو صاحب کو بھی اسی دن خبر کردی۔ اب مولوی صاحب!! آپ خود یہاں آکر اور خود اس جگہ پہنچ کر جس طرح سے جی چاہے اس ہندو صاحب سے جو اس جگہ قادیان میں موجود ہے اور نیز دوسرے لوگوں سے دریافت کرسکتے ہیں کہ یہ خبر جو میں نے بیان کی ہے یہ ٹھیک درست ہے یا اس میں کچھ کمی بیشی ہے۔ اور ایسے معاملات میں مخالفین مذہب کی گواہی خاص کر دیانند پنڈت کے تابعین کی گواہی جس قدر قابل اعتبار ہے آپ جانتے ہی ہوں گے۔ اب ہم ایک تیسری رؤیا بھی آپ کی خدمت میں نذر کرتے ہیں۔ سردؔ ار محمد حیات خان کا کبھی آپ نے نام سنا ہی ہوگا کہ جو گورنمنٹ کے حکم سے ایک عرصہ دراز تک معطل رہے۔ ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرا ہوگا۔ یا شاید اس سے زیادہ کچھ عرصہ گزر گیا ہو گا کہ جب طرح طرح کی مصیبتیں اور مشکلیں اور صعوبتیں اس معطلی کی