کرؔ کے دکھلاویں تو ہم اسکو قرآن شریف میں سے نکال دیں گے بشرطیکہ اسی کتاب کی اثناء طبع
اور اولیاء کا وجود اس لئے ہوتا ہے کہ تا لوگ جمیع اخلاق میں ان کی پیروی کریں اور جن امور پر خدا نے ان کو استقامت بخشی ہے اسے جادہ استقامت پر سب حق کے طالب قدم ماریں اور یہ بات نہایت بدیہی ہے کہ اخلاق فاضلہ کسی انسان کے اس وقت بہ پایہ ثبوت پہنچتے ہیں کہ جب اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوں اور اسی وقت دلوں پر ان کی تاثیریں بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً عفو وہ معتبر اور قابل تعریف ہے کہ جو قدرت انتقام کے وقت میں ہو۔ اور پرہیزگاری وہ قابل اعتبار ہے۔ کہ جو نفس پروری کی قدرت موجود ہوتے ہوئے پھر پرہیزگاری قائم رہے۔ غرض خدائے تعالیٰ کاؔ ارادہ انبیاء اور اولیاء کی نسبت
اب ایک دوسری رؤیا سنئے۔ عرصہ تخمیناً بارہ برس کا ہوا ہے کہ ایک ہندو صاحب کہ جو اَب آریہ سماج قادیان کے ممبر اور صحیح و سلامت موجود ہیں حضرت خاتم الرسل صلوسلم عل کے معجزات اور آنجناب کی پیشین گوئیوں سے سخت منکر تھا اور اس کا پادریوں کی طرح شدت عناد سے یہ خیال تھا کہ یہ سب پیشگوئیاں مسلمانوں نے آپ بنالی ہیں۔ ورنہ آنحضرت پر خدا نے کوئی امر غیب ظاہر نہیں کیا اور ان میں یہ علامت نبوت موجود ہی نہیں تھی۔ مگر سبحان اللہ کیا فضل خدا کا اپنے نبی پر ہے اور کیا بلند شان اس معصوم اور مقدس نبی کی ہے کہ جس کی صداقت کی شعاعیں اب بھی ایسی ہی چمکتی ہیں کہ جیسی قدیم سے چمکتی آئی ہیں۔ کچھ تھوڑے دنوں کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ اس ہندو صاحب کا ایک عزیز کسی ناگہانی پیچ میں آکر قید ہوگیا اور اس کے ہمراہ ایک اور ہندو بھی قید ہوا۔ اور ان دونوں کا چیف کورٹ میں اپیل گزرا۔ اس حیرانی اور سرگردانی کی حالت میں ایک دن اس آریہ صاحب نے مجھ سے یہ بات کہی کہ غیبی خبر اسے کہتے ہیں کہ آج کوئی یہ بتلاسکے کہ اس ہمارے مقدمہ کا انجام کیا ہے۔ تب میں نے جواب دیا کہ غیب تو خاصہ خدا کا ہے اور خدا کے پوشیدہ بھیدوں سے نہ کوئی نجومی واقف ہےؔ نہ رمّال نہ فال گیر نہ اور کوئی مخلوق۔ ہاں خدا جو آسمان و زمین کی ہریک شدنی سے واقف ہے اپنے کامل اور مقدس رسولوں کو اپنے ارادہ اور اختیار سے بعض اسرار غیبیہ پر مطلع کرتا ہے۔ اور نیز کبھی کبھی جب چاہتا ہے تو اپنے سچے رسول کے