​ نکال کر پیش کریں یا اپنی ہی عقل کے زور سے کوئی الٰہیات کا نہایت باریک دقیقہ پیدا ​ سب سے زیادہ مصیبتیں انہیں پر پڑتیں۔ لیکن یہ وسوسہ بالکل بے اصل ہے جو سراسر کم توجہی سے پیدا ہوتا ہے۔ الہامی خبروں کا قادرانہ طور پر بیان ہوناشے دیگر ہے اور انبیاء کی مصیبتیں ایک دوسرا امر ہے کہ جوانواع اقسام کی حکمتوں پر مشتمل ہے۔ اور حقیقتِ حال پر مطلع ہونے سے تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ مصیبتیں اصل میں مصیبتیں نہیں بلکہ بڑی بڑی نعمتیں ہیں کہ جو انہیں کو دی جاتی ہیں جن پر خدا کا فضل اور کرم ہوتاؔ ہے اور یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ جن میں نبیوں اور تمام دُنیا کو فائدہ ہے اس جگہ تحقیق کلام یہ ہے کہ انبیاء ​ مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دے دی اور اس نے وہیں کھالی۔ پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھاچکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہوگئی اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں ایسا ہی آنحضرت کی پیشانی مبارک سے متواتر چمکنے لگی کہ جو دین اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارت تھی۔ تب اسی نور کے مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی والحمد للّٰہ علٰی ذٰلک۔ ​ یہ وہ خواب ہے کہ تقریباً دو سو آدمی کو انہیں دنوں میں سنائی گئی تھی جن میں سے پچاس یا کم و بیش ہندو بھی ہیں کہ جو اکثر ان میں سے ابھی تک صحیح و سلامت ہیں اور وہ تمام لوگ خوب جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں براہین احمدیہ کی تالیف کا ابھی نام و نشان نہ تھا اور نہ یہ مرکوز خاطر تھا کہ کوئی دینی کتاب بناکر اس کے استحکام اور سچائی ظاہر کرنے کے لئے دس ؔ ہزار روپیہ کا اشتہار دیا جائے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اب وہ باتیں جن پر خواب دلالت کرتی ہے کسی قدر پوری ہوگئیں اور جس قطبیت کے اسم سے اُس وقت کی خواب میں کتاب کو موسوم کیا گیا تھا۔ اسی قطبیت کو اب مخالفوں کے مقابلے پر بوعدہ انعام کثیر پیش کرکے حجت اسلام ان پر پوری کی گئی ہے۔ اور جس قدر اجزا اس خواب کے ابھی تک ظہور میں نہیں آئے ان کے ظہور کا سب کو منتظر رہنا چاہئے کہ آسمانی باتیں کبھی ٹل نہیں سکتیں۔