​ حقائق الٰہیات پر حاوی ہےؔ ۔ تو اس بات کا ہم ہی ذمہ اٹھاتے ہیں کہ اگر کوئی صاحب محمدؔ و اٰلہ واصحابہ و بارک وسلّم۔ اس زمانے کے پادری اور پنڈت اور برہمو اور آریہ اور دوسرے مخالف چونک نہ اٹھیں کہ وہ برکتیں کہاں ہیں۔ وہ آسمانی نور کدھر ہیں جن میں امت مرحومہ حضرت خاتم الانبیاء صلوسلم عل کے مسیح اور موسیٰ کی برکتوں میں شریک ہے۔ اور ان نوروں کی وارث ہے جن سے اور تمام قومیں اور تمام اہل مذاہب محروم اور بے نصیب ہیں۔ اس وسوسہ کے دور کرنے کے لئے بارہا ہم نے اسی حاشیے میں لکھ دیا ہے کہ طالب حق کے لئے کہ جو اسلام کے فضائلِ خاصّہ دیکھ کر فی الفور مسلمان ہونے پر مستعد ہے۔ اس ثبوتِ دینی کے ہم آپ ہی ذمہ وار ہیں۔ اور حاشیہ در حاشیہ صورت دوم میں اسی کی طرف ہم نے صریح اشارہ کیا ہے۔ بلکہ خدائے تعالیٰ جس جس طرح پر ​ تفرید کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔ اور اگر تھوڑے دنؔ ہنسی اور ملامت کا موجب ٹھہریں تو ان ٹھٹھوں اور ملامتوں کا برداشت کرنا خادم دین کے لئے عین سعادت اور فخر ہے۔ والذین یبلغون رسالات ربھم لا یخافون لومۃ لائم۔ صورت سوم الہام کی یہ ہے کہ نرم اور آہستہ طور پر انسان کے قلب پر القا ہوتا ہے۔ یعنے یک مرتبہ دل میں کوئی کلمہ گذر جاتا ہے۔ جس میں وہ عجائبات بہ تمام و کمال نہیں ہوتے کہ جو دوسری صورت میں بیان کئے گئے ہیں۔ بلکہ اس میں ربودگی اور غنودگی بھی شرط نہیں۔ بسا اوقات عین بیداری میں ہوجاتا ہے اور اس میں ایسا محسوس ہوتا ہے۔ کہ گویا غیب سے کسی نے وہ کلمہ دل میں پھونک دیا ہے یا پھینک دیا ہے۔ انسان کسی قدر بیداری میں ایک استغراق اور محویّت کی حالت میں ہوتا ہے۔ اور کبھی بالکل بیدار ہوتا ہے کہ یک دفعہ دیکھتا ہے کہ ایکَ نووارد کلام اس کے سینہ میں داخل ہے یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ معاً وہ کلام دل میں داخل ہوتے ہی اپنی پرزور روشنی ظاہر کردیتا ہے اور انسان متنبہ ہوجاتا ہے کہ خدا کی طرف سے یہ القا ہے اور صاحب ذوق کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تنفسی ہوا اندر جاتی اور تمام دل وغیرہ اعضاء کو راحت پہنچاتی ہے۔ ویسا ہی وہ