​ طالب حق بن کر یعنے اسلام قبول کرنے کا تحریریؔ وعدہ کرکے کسی کتاب عبرانی ​ اپنیؔ خداوندی کی طاقتوں اور فضلوں اور برکتوں کو مسلمانوں پر ظاہر کرتا ہے اُنہیں ربّانی مواعید اور بشارتوں میں سے کہ جو انسانی طاقتوں سے باہر ہیں۔ کسی قدر حاشیہ ممدوحہ میں لکھ دیا ہے۔ پس اگر کوئی پادری یا پنڈت یا برہمو کہ جو اپنی کور باطنی سے منکر ہیں یا کوئی آریہ اور دوسرے فرقوں میں سے سچائی اور راستی سے خدا تعالیٰ کا طالب ہے تو اس پر لازم ہے کہ سچے طالبوں کی طرح اپنے تمام تکبروں اور غروروں اور نفاقوں اور دُنیا پرستیوں اور ضدوں اور خصومتوں سے بکلّی پاک ہوکر اور فقط حق کا خواہاں اور حق کا جویاں ​ الہام دل کو تسلی اور سکینت اور آرام بخشتا ہے۔ اور طبیعت مضطرب پر اس کی خوشی اور خنکی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ ایک باریک بھید ہے جو عوام لوگوں سے پوشیدہ ہے۔ مگر عارف اور صاحب معرفت لوگ جن کو حضرت واہب حقیقی نے اَسرار ربانی میں صاحب تجربہ کردیا ہے۔ وہ اس کو خوب سمجھتے اور جانتے ہیں۔ اور اس صورت کا الہام بھی اس عاجز کو بارہا ہوا ہے جس کا لکھنا بالفعل کچھ ضروری نہیں۔ صورتؔ چہارم الہام کی یہ ہے کہ رؤیا صادقہ میں کوئی امر خدائے تعالیٰ کی طرف سے منکشف ہوجاتا ہے یا کبھی کوئی فرشتہ انسان کی شکل میں متشکل ہوکر کوئی غیبی بات بتلاتا ہے یا کوئی تحریر کاغذ پر یا پتھر وغیرہ پر مشہود ہوجاتی ہے جس سے کچھ اسرارِ غیبیہ ظاہر ہوتے ہیں۔ وغیرہا مِن الصّوَ ر۔ چنانچہ یہ عاجز اپنے بعض خوابوں میں سے جن کی اطلاع اکثر مخالفین اسلام کو انہیں دنوں میں دی گئی تھی کہ جب وہ خوابیں آئی تھیں اور جن کی سچائی بھی انہیں کے روبرو ظاہر ہوگئی بطور نمونہ بیان کرتا ہے۔ منجملہ اُن کے ایک وہ خواب ہے جس میں اس عاجز کو جناب خاتم الانبیاء محمد مصطفی صوسلم عل کی زیارت ہوئی تھی۔ اور بطور مختصر بیان اس کا یہ ہے کہ اس احقر نے ۱۸۶۴ ؁ء یا ۱۸۶۵ ؁ء عیسوی میں یعنے ​