​ سیدھا راستہ کھلاؔ ہے۔ کیونکہ اگر اس امر میں شک ہو۔ کہ قرآن شریف کیونکر تمام ​ تمامؔ نبیوں اور تمام رسولوں اور تمام مقدسوں اور تمام اُن چیزوں سے جو ظہور پذیر ہوئیں۔ یا آئندہ ہوں۔ بہتر اور پاک تر اور کامل تر اور افضل اور اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ وہ بھی اُن نعمتوں سے اب تک حصہ پاتے ہیں۔ اور جو شربت موسیٰ اور مسیح کو پلایا گیا۔ وہی شربت نہایت کثرت سے نہایت لطافت سے نہایت لذت سے پیتے ہیں اور پی رہے ہیں۔ اسرائیلی نور ان میں روشن ہیں۔ بنی یعقوب کے پیغمبروں کی ان میں برکتیں ہیں۔ سبحان اللہ ثم سبحان اللہ حضرت خاتم الانبیاء صلوسلم عل کس شان کے نبی ہیں۔ اللہ اللہ کیا عظیم الشان نور ہے جس کے ناچیز خادم جس کی ادنیٰ سے ادنیٰ اُمّت۔ جس کے احقر سے احقر چاکر مراتب مذکورہ بالا تک پہنچ جاتے ہیں۔ اللھم صل علی نبیک وحبیبک سیّد الانبیآء وافضل الرسل وخیرالمرسلین وخاتم النبیین ​ درحقیقت ناچیز خاک کی کیا تعریف۔ سب تعریفیں اور تمام نیکیاں اسی ایک کی طرف راجع ہیں کہ جو رب العالمین اور حیّ القیوم ہے۔ اور جب خداوند تعالیٰ عزاسمہ مصلحت مذکورہ بالا کی غرض سے کسی بندہ کی جس کے ہاتھ پر خلق اللہ کی اصلاح منظور ہے۔ کچھ تعریف کرے تو اس بندہ پر لازم ہے کہ اس تعریف کو خلق اللہ کی نفع رسانی کی نیت سے اچھی طرح مشتہر کرے اور اس بات سے ہرگز نہ ڈرے کہ عوام الناس کیا کہیں گے۔ عوام الناس تو جیسا کہ ان کا مادہ اور ان کی سمجھ ہے ضرور کچھ نہ کچھ بکواس کریں گے۔ کیونکہ بدظنی اور بداندیشی کرنا عوام الناس کی قدیم سے فطرت چلی آتی ہے۔ اب کسی زمانہ میں کب بدل سکتی ہے۔ مگر درحقیقت یہ تعریفیں عوام الناس کے حق میں موجب بہبودی ہیں اور گو ابتداء میں عوام الناس کو وہ تعریفیں مکروہ اور کچھ افتراء سا معلوم ہوں۔ لیکن انجام کار خدائے تعالیٰ ان پر حق الامر کھول دیتا ہے اور جب اس ضعیف بندہ کا حق بجانب ہونا اور مؤید من اللہ ہونا عوام پر کھل جاتا ہے۔ تو وہ تمام تعریفیں ایسے شخص کی کہ جو میدان جنگ میں کھڑا ہے۔ ایک فتح عظیم کا موجب ہوجاتی ہیں اور ایک عجیب اثر پیدا کرکے خدا کے گم گشتہ بندوں کو اس کی توحید اور ​