میں داخل نہیں اورؔ اس کے آزمانے کے لئے بھی ہر یک خواندہ اور ناخواندہ پر صاف اور
طاقتوںؔ سے باہر ہیں لکھے ہیں۔ کسی دوسری کتاب میں سے پیش کرے۔ اور جب تک پیش نہ کرے تب تک صریح حجت خدا کی اس پر وارد ہے۔ اور خدا نے کہا تھا کہ میں ارضِ شام کو عیسائیوں کے قبضہ میں سے نکال کر مسلمانوں کو اُس زمین کا وارث کروں گا۔ سو دیکھو اب تک مسلمان ہی اُس زمین کے وارث ہیں اور یہ سب خبریں ایسی ہیں کہ جن کے ساتھ اقتدار اور قدرتِ الوہیت شامل ہے۔ یہ نہیں کہ نجومیوں کی طرح صرف ایسی ہی خبریں ہوں کہ زلزلے آویں گے، قحط پڑیں گے، قوم پر قوم چڑھائی کرے گی، وباء پھیلیں گی مری پڑے گی وغیرہ وغیرہ۔ اور بہ تبعیّت خدا کے کلام کے اور اُسی کی تاثیر اور برکت سے وہ لوگ کہ جو قرآن شریف کا اتباع اختیار کرتے ہیں اور خدا کے رسول مقبول پر صدق دلی سے ایمان لاتے ہیں اور اُس سے محبت رکھتے ہیں اور اس کو تمام مخلوقات اور
کسی کو آیت اللہ اور حجت اللہ کا مرتبہ عنایت فرماتا ہے اور محامد الٰہیہ کا مورد ٹھہراتا ہے۔
دوسرے یہ فائدہ کہ نئے مستفیض کی تعریف کرنے میں بہت سی اندرونی بدعات اور مفاسد کی اصلاح متصوّر ہے۔ کیونکہ جس حالت میں اکثر جاہلوں نے گذشتہ اولیاء اور صالحین پر صدہا اس قسم کی تہمتیں لگا رکھی ہیں کہ گویا انہوں نے آپ یہ فہمائش کی تھی کہ ہم کو خدا کا شریک ٹھہراؤ اور ہم سے مرادیں مانگو اور ہم کو خدا کی طرح قادر اور متصرف فی الکائنات سمجھو۔ تو اس صورت میں اگر کوئی نیا مصلح ایسی تعریفوں سے عزت یاب نہ ہو کہ جو تعریفیں ان کو اپنے پیروں کی نسبت ذہن نشین ہیں۔ تب تک وعظ اور پند اُس مصلح جدید کا بہت ہی کم مؤثر ہوگا۔ کیونکہ وہ لوگ ضرور دل میں کہیں گے کہ یہ حقیر آدمی ہمارے پیروں کی شان بزرگ کوکب پہنچؔ سکتا ہے۔ اور جب خود ہمارے بڑے پیروں نے مرادیں دینے کا وعدہ دے رکھا ہے۔ تو یہ کون ہے اور اس کی کیا حیثیت اور کیا بضاعت اور کیا رتبت اور کیا منزلت۔ تا ان کو چھوڑ کر اس کی سنیں۔ سو یہ دو فائدے بزرگ ہیں جن کی وجہ سے اس مولیٰ کریم نے کہ جو سب عزتوں اور تعریفوں کا مالک ہے۔ اپنے ایک عاجز بندہ اور مشت خاک کی تعریفیں کیں۔ ورنہ