نہ مل سکے کہ جو اسؔ سے باہر رہ گئی ہو۔ یہ انسان کا کا کام نہیں اور کسی مخلوق کی حد قدرت
میں محفوظ چلی آتی ہے اور لاکھوں قرآن شریف کے حافظ ہیں کہ جو قدیم سے چلے آتے ہیں۔ خدا نے کہا تھا کہ میری کتاب کا کوئی شخص حکمت میں، معرفت میں، بلاغت میں، فصاحت میں، احاطۂ علومِ ربّانیہ میں بیان دلائل دینیہ میں مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ سو دیکھو کسی سے مقابلہ نہیں ہوسکا۔ اور اگر کوئی اِس سے منکر ہے۔ تو اَب کرکے دکھلا دے اور جو کچھ ہم نے اِس کتاب میں جس کے ساتھ دس ہزار روپے کا اشتہار بھی شامل ہے۔ حقائق و دقائق و عجائبات قرآن شریف کے کہ جو انسانی
کیونکہ جس چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہوسکتا ہے اور ہمیشہ روشن ہوتا ہے۔ وہ ایسے چراغ سے بہتر ہے جس سے دوسرا چراغ روشن نہ ہوسکے۔ دوسرے اس امت کی کمالیت اور دوسری امتوں پر اس کی فضیلت اس افاضہ دائمی سے ثابت ہوتی ہے اور حقیت دین اسلام کا ثبوت ہمیشہ تروتازہ ہوتا رہتا ہے۔ صرف یہی بات نہیں ہوتی کہ گذشتہ زمانہ پر حوالہ دیا جائے۔ اور یہ ایک ایسا امر ہے کہ جس سے قرآن شریف کی حقانیت کے انوار آفتاب کی طرح ظاہر ہوجاتے ہیں اور دین اسلام کے مخالفوں پر حجت اسلام پوری ہوتی ہے اور معاندین اسلام کی ذلّت اور رُسوائی اور رُوسیاہی کامل طور پر کھل جاتی ہے کیونکہ وہ اسلام میں وہ برکتیں اور وہ نور دیکھتے ہیں جن کی نظیر کو وہ اپنی قوم کے پادریوں اور پنڈتوں وغیرہ میں ثابت نہیں کرسکتے۔ فتدبر ایّھا الصادق فی الطلب ایدک اللّہ فی طلبک۔
اسؔ جگہ بعض خاموں کے دلوں میں یہ وہم بھی گزر سکتا ہے کہ اسی مندرجہ بالا الہامی عبارت میں کیوں ایک مسلمان کی تعریفیں لکھی ہیں۔ سو سمجھنا چاہئے کہ ان تعریفوں سے دو بزرگ فائدے متصور ہیں جن کو حکیم مطلق نے خلق اللہ کی بھلائی کے لئے مدنظر رکھ کر ان تعریفوں کو بیان فرمایا ہے۔ ایک یہ کہ تانبی متبوع کی متابعت کی تاثیریں معلوم ہوں اور تا عامہ خلائق پر واضح ہو کہ حضرت خاتم الانبیاء صلوسلم عل کی کس قدر شان بزرگ ہے۔ اور اس آفتاب صداقت کی کیسی اعلیٰ درجہ پر روشن تاثیریں ہیں۔ جس کا اتباع کسی کو مومن کامل بناتا ہے۔ کسی کو عارف کے درجہ تک پہنچاتا ہے۔