اصولؔ حقہ کے جمیع دلائل اور وسائل اور تمام اوّلین آخرین کا مغز ایک قلیل المقدار کتاب میں اس احاطہ تام سے درج کرنا جس کے مقابلہ پر کسی ایسی صداقت کا نشان ​ اور کیونکر اُن کو طاقت اور دولت اور بادشاہت بخش دی اور کیونکر ہزارہا سال کی تخت نشینیوں کے تاج اور تخت اُن کے سپرد کئے گئے۔ ایک دن وہ تھا کہ وہ جماعت اتنی بھی نہیں تھیؔ کہ جس قدر ایک گھر کے آدمی ہوتے ہیں اور اب وہی لوگ کئی کروڑ دنیا میں نظر آتے ہیں۔ خداوند نے کہا تھا کہ میں اپنے کلام کی آپ حفاظت کروں گا۔ اب دیکھو۔ کیا یہ سچ ہے یا نہیں کہ وہی تعلیم جو آنحضرت صلوسلم عل نے خدائے تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ اُس کی کلام کے پہنچائی تھی وہ برابر اس کی کلام ​ یاکچھ آثار اور برکات اور آیات ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ حقیقت میں مرجعِ تام ان تمام تعریفوں کا اور مصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریم ہی ہوتا ہے اور حقیقی اور کامل طور پر وہ تعریفیں اسی کے لائق ہوتی ہیں۔ اور وہی ان کا مصداق اَتَم ہوتا ہے۔ مگر چونکہ متبع سنن آں سرور کائنات کا اپنے غایت اتباع کے جہت سے اس شخص نورانی کے لئے کہ جو وجود باجود حضرت نبوی ہے مثل ظل کے ٹھہر جاتا ہے۔ اس لئے جو کچھ اس شخص مقدس میں انوار الٰہیہ پیدا اور ہویدا ہیں۔ اُس کے اس ظل میں بھی نمایاں اور ظاہر ہوتے ہیں۔ اور سایۂ میں اس تمام وضع اور انداز کا ظاہر ہونا کہ جو اُس کے اصل میں ہے ایک ایسا امر ہے کہؔ جو کسی پر پوشیدہ نہیں۔ ہاں سایہ اپنی ذات میں قائم نہیں اور حقیقی طور پر کوئی فضیلت اس میں موجود نہیں بلکہ جو کچھ اس میں موجود ہے وہ اس کے شخص اصلی کی ایک تصویر ہے جو اس میں نمودار اور نمایاں ہے۔ پس لازم ہے کہ آپ یا کوئی دوسرے صاحب اس بات کو حالت نقصان خیال نہ کریں کہ کیوں آنحضرت صلوسلم عل کے انوار باطنی ان کی امت کے کامل متبعین کو پہنچ جاتے ہیں اور سمجھنا چاہئے کہ اس انعکاس انوار سے کہ جو بطریق افاضہ دائمی نفوس صافیہ امت محمدیہ پر ہوتا ہے۔ دو بزرگ امر پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس سے آنحضرت صلوسلم عل کی بدرجہ غایت کمالیت ظاہر ہوتی ہے