​ جس ؔ کی صداقت میں ایک ادنیٰ عقل کے آدمی کو بھی شک نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ ہریک عقل سلیم پر روشن ہے کہ ہریک نوع کی دینی سچائیاں اور الٰہیات کے تمام حقائق اورمعارف اور ​ بجز چند بے سامان درویشوں کے اور کچھ نہ تھا اور تمام مسلمان صرفؔ اس قدر تھے کہ ایک چھوٹے سے حجرہ میں سما سکتے تھے اور انگلیوں پر نام بنام گنے جاسکتے جن کو ایک گاؤں کے چند آدمی ہلاک کرسکتے تھے۔ جن کا مقابلہ اُن لوگوں سے پڑا تھا کہ جو دنیا کے بادشاہ اور حکمران تھے اور جن کو اُن قوموں کے ساتھ سامنا پیش آیا تھا کہ جو باوجود کروڑوں مخلوقات ہونے کے اُن کے ہلاک کرنے اور نیست و نابود کرنے پر متفق تھے۔ مگر اب دنیا کے کناروں تک نظر ڈال کے دیکھو کہ کیونکر خدا نے اُنہیں ناتوان اور قدر قلیل لوگوں کو دنیا میں پھیلا دیا۔ ​ الیک من ربک ولا تصعر لخلق اللّہ ولا تسئم من الناس۔ اصحاب الصفۃ وما ادرک ما اصحاب الصفۃ تری اعینھم تفیض من الدمع۔ یصلون علیک۔ ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان و داعیا الی اللہ وسراجا منیرا۔ املوا۔ اس جگہ یہ وسوسہ دل میں نہیں لانا چاہئے کہ کیونکر ایک ادنیٰ امتی آں رسول مقبول کے اسماء یا صفات یا محامد میں شریک ہوسکے۔ بلاشُبہ یہ سچ بات ہے کہ حقیقی طور پر کوئی نبی بھی آنحضرت کے کمالاتِ قدسیہ سے شریکؔ مساوی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ تمام ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جگہ نہیں۔ چہ جائیکہ کسی اور کو آنحضرت کے کمالات سے کچھ نسبت ہو۔ مگر اے طالبِ حق ارشدک اللّٰہ تم مُتوجّہ ہوکر اس بات کو سنو کہ خداوند کریم نے اس غرض سے کہ تا ہمیشہ اس رسول مقبول کی برکتیں ظاہر ہوں اور تا ہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعاعیں مخالفین کو ملزم اور لاجواب کرتی رہیں۔ اس طرح پر اپنی کمال حکمت اور رحمت سے انتظام کررکھا ہے کہ بعض افراد امت محمدیہ کہ جو کمال عاجزی اور تذلل سے آنحضرت صلوسلم عل کی متابعت اختیار کرتے ہیں اور خاکساری کے آستانہ پر پڑکر بالکل اپنے نفس سے گئے گزرے ہوتے ہیں۔ خدا ان کو فانی اور ایک مصفا شیشہ کی طرح پاکر اپنے رسول مقبول کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ منجاب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہے