جن دقائق کا بیان کرنا کسی حکیم و فلاسفر کو میسر نہیں آیا۔ اور کوئی ذہن ان کی طرف سبقت نہیں لے گیا اُن کو قرآن شریف بکمال صحت و راستی بیان تمہاری طاقت ان پر قبضہ کرنے سے عاجز ہے پر خدا کی طاقتیں ان پر محیط ہورہی ہیں اور خدا ہریک چیز پر قادر ہے یہاں تک تو وہ پیشین گوئیاں ہیں جن میں ظاہری بشارتیں ہیں۔ پھر بعد اس کے باطنی بشارتوں کی طرف اشارہ فرما کر کہا۔ کافر اور مشرک کہ جو شرک اور کفر پر مریں ان کے گناہ نہیں بخشے جائیں گے اور خدا ان کو ان کے کفر کی حالت میں اپنی معرفت کا راہ نہیں دکھلائے گا۔ ہاں جہنم کا راہ دکھلائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ پر جو لوگ خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ وہی ہیں کہ جو خدا کے نزدیک صدیق ہیں۔ ان کے لئے اجر ہوگا۔ ان کے لئے نور ہوگا۔ ان کو اسی زندگی میں بشارتیں ملیں گی یعنے وہ خدا سے نور الہام کا پائیں گے اور بشارتیں سنیں گے جن میں ان کی بہتری اور مدح اور ثنا ہوگی اور خدا ان کی سچائیوں کو روشن کرے گا۔ خدا نے جو جو وعدہ کیا ہے وہ سب پورا ہوگا۔ دیکھو حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱ کہ کیونکر یہ پیشین گوئی بھی پوری ہورہی ہے لطیف الفاظ میں بلکہ کبھی کسی ایسی زبان میں ہوتا ہے کہ جس سے وہ بندہ ناآشنا محض ہے۔ اور کبھی امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے کہ جو مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہیں اور کبھی اس کے ذریعہ سے مواہب عظیمہ کی بشارت ملتی ہے اور منازل عالیہ کی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ اور قرب حضرت باری کی مبارکبادی دی جاتی ہے اور کبھی دنیوی برکتوں کے بارے میں پیشگوئی ہوتی ہے تو ان کلمات لطیفہ و بلیغہ کے سننے سے کہ جو مخلوق کی قوتوں سے نہایت بلند اور اعلیٰ ہوتے ہیں۔ جس قدر ذوق اور معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس کو وہی بندہ جانتا ہے جس کو یہ نعمت عطا ؔ ہوتی ہے۔ فی الحقیقت وہ خدا کو ایسا ہی شناخت کرلیتا ہے جیسے کوئی شخص