جس سے کوئی صداقت دینی باہر نہیں۔ بلکہ جن صداقتوں کو حکیموں نے بباعث نقصان علم و عقل غلط طور پر بیان کیا ہے۔ قرآؔ ن شریف ان کی تکمیل و اصلاح فرماتا ہے اور ​ اے ایمان لانے والو۔ اگر کوئی تم میں سے دین اسلام کو چھوڑ دے گا تو خدا اس کے عوض میں ایک ایسی قوم لائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے وہ مومنین کے آگے تذلل کریں گے اور کافروں پر غالب اور بھاری ہوں گے یعنی خدا کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ ہمیشہ یہ حال ہوتا رہے گا کہ اگر کوئی ناقص الفہم دین اسلام سے مرتد ہوجائے گا تو اُس کے مرتد ہونے سے دین میں کچھ کمی نہیں ہوگی بلکہ اس ایک شخص کے عوض میں خدا کئی وفادار بندوں کو دین اسلام میں داخل کرے گاکہ جو اخلاص سے اس پر ایمان لائیں گے اور خدا کے محب اور محبوب ٹھہریں گے اور وہ تمام کافر کہ جو دین اسلام کے روکنے اور بند کرنے کے لئے اپنے مالوں کو خرچ کررہے ہیں وہ جہاں تک اُن کا بس چلے گا خرچ کریں گے۔ پر آخرکار وہ تمام خرچ ان کے لئے تاَسف اور حسرت کا موجب ہوگا اور پھر مغلوب ہوجائیں گے۔ خدا نے تم کو بہت سے ملکوں کی غنیمتوں کا عطا کرنا وعدہ کیا تھا۔ سو ان میں سے ایک پہلا امر یہ ہوا کہ خدا نے یہودیوں کے قلعے معہ تمام مال و اسباب تم کو دے دیئے اور مخالفوں کے شر سے تم کو امن بخشاتا مومنین کے لئے ایک نشان ہو۔ اور خدا تم کو دوسرے ملک بھی یعنی فارس اور روم وغیرہ عطا کرے گا۔ لطیف الفاظ میں بلکہ کبھی کسی ایسی زبان میں ہوتا ہے کہ جس سے وہ بندہ ناآشنا محض ہے۔ اور کبھی امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے کہ جو مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہیں اور کبھی اس کے ذریعہ سے مواہب عظیمہ کی بشارت ملتی ہے اور منازل عالیہ کی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ اور قرب حضرت باری کی مبارکبادی دی جاتی ہے اور کبھی دنیوی برکتوں کے بارے میں پیشگوئی ہوتی ہے تو ان کلمات لطیفہ و بلیغہ کے سننے سے کہ جو مخلوق کی قوتوں سے نہایت بلند اور اعلیٰ ہوتے ہیں۔ جس قدر ذوق اور معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس کو وہی بندہ جانتا ہے جس کو یہ نعمت عطا ؔ ہوتی ہے۔ فی الحقیقت وہ خدا کو ایسا ہی شناخت کرلیتا ہے جیسے کوئی شخص