افرادؔ مبتلا ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی کا ذکر یا علاج قرآن شریف سے دریافت کرنا چاہے۔ تو وہ جس طور سے اور جس باب میں آزمائش کرنا چاہتا ہے آزما کر دیکھ لے کہ ہریک دینی صداقت اورؔ حکمت کے بیان میں قرآن شریف ایک دائرہ کی طرح محیط ہے
کافروں کو کہہ کہ اگر تم خدا کی بندگی نہ کرو تو وہ تمہاری پرواہ کیا رکھتا ہے۔ سو تم نے بجائے طاعت اور بندگی کے جھٹلانا اختیار کیا۔ سو عنقریب اس کی سزا تم پر وارد ہونے والی ہے اور تم یقیناً جانو کہ تم خدا کو اس کے کاموں میں کبھی عاجز نہیں کرسکتے اور خدا تمہیں رسوا کرے گا۔ وہ لوگ کہ جو تمہارے ناحق کے جنگوں اور قتل کے ارادوں سے ظلم رسیدہ ہیں۔ انکی نسبت مدد دینے کا حکم ہوچکا ہے اور خدا انکی مدد پر قادر ہے۔ وہ خدا وہ کریم و رحیم ہے جس نے امیوں میں انہیں میں سے ایک ایسا کامل رسول بھیجا ہے کہ جو باوجود امی ہونے کے خدا کی آیات ان پر پڑھتا ہے۔ اور انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت سکھلاتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس نبی کے ظہور سے پہلے صریح گمراہی میں پھنسے ہوئے تھے اور انکے گروہ میں سے اور ملکوں کے لوگ بھی ہیں جن کا اسلام میں داخل ہونا ابتدا سے قرار پاچکا ہے اور ابھی وہ مسلمانوں سے نہیں ملے۔ اور خدا غالب اور حکیم ہے جسکا فعل حکمت سے خالی نہیں۔ یعنی جب وہ وقت آپہنچے گا کہ جو خدا نے اپنی حکمت کاملہ کے لحاظ سے دوسرے ملکوں کے مسلمان ہونے کیلئے مقرر کررکھا ہے۔ تب وہ لوگ دین اسلام میں داخل ہونگے
توؔ یہ امر اس کیلئے موجب مزید معرفت اور باعث عرفان کامل ہوجاتا ہے۔ بندہ کا دعا کرنا اور خدا کا اپنی الوہیت کی تجلی سے ہریک دعا کا جواب دینا یہ ایک ایسا امر ہے کہ گویا اسی عالم میں بندہ اپنے خدا کو دیکھ لیتا ہے اور دونوں عالم اس کیلئے بلاتفاوت یکساں ہوجاتے ہیں۔ جب بندہ اپنی کسی حاجت کے وقت بار بار اپنے مولیٰ کریم سے کوئی عقدہ پیش آمدہ دریافت کرتا ہے اور عرض حال کے بعد حضرت خداوند کریم سے جواب پاتا ہے۔ اسی طرح کہ جیسے ایک انسان دوسرے انسان کی بات کا جواب دیتا ہے اور جواب ایسا ہوتا ہے کہ نہایت فصیح اور