دقیق صداقت جس کو حکمائے سابقین نے مدت دراز کی محنت اور جانفشانی سے نکالا ہو معرض مقابلہ میں لاوے۔ یا جس مقدر مفاسد باطنی اور امراض روحانی ہیں جن میں اکثر
کہ یہؔ لوگ عذاب سے بچ جائیں گے ان کے لئے ایک دردناک عذاب مقرر ہے اور اس سےَ اور کون ظالم تر ہے کہ جو خدا کی مسجدوں کو اس بات سے روکے کہ ان میں ذکر الٰہی کیا جائے اور مسجدوں کے خراب اور منہدم کرنے میں کوشش کرے۔ یہ عیسائیوں کی بدچلنی اور مفسدانہ حرکت کا حال بتلایا ہے جنہوں نے بیت المقدس کا کچھ پاس نہ کیا اور اسے متکبّرانہ جوش میں آکر منہدم کیا اور بعد اس آیت کے فرمایا کہ جن عیسائیوں نے ایسی شوخی کی ان کو دنیا میں رسوائی درپیش ہے اور آخرت میں عذاب عظیم۔ ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھا ہے کہ جو نیک لوگ ہیں وہی زمین کے وارث ہوں گے یعنی ارض شام کے (زبور:۷۳) کہہ اے بار خدایا اے مالک الملک تو جسے چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ ہر یک خیرکہ جس کا انسان طالب ہے تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ تو ہریک چیز پر قادر ہے
چاہتا ہے تو یکدفعہ ایک بیہوشی اور ربودگی اس پر طاری کردیتا ہے جس سے وہ بالکل اپنی ہستی سے کھویا جاتا ہے اور ایسا اس بے خودی اور ربودگی اور بیہوشی میں ڈوبتا ہے جیسے کوئی پانی میں غوطہ مارتا ہے اور نیچے پانی کے چلا جاتا ہے۔ غرض جب بندہ اس حالت ربودگی سے کہ جو غوطہ سے بہت ہی مشابہ ہے باہر آتا ہے تو اپنے اندر میں کچھ ایسا مشاہدہ کرتا ہے جیسے ایک گونج پڑی ہوئی ہوتی ہے۔ اور جب وہ گونج کچھ فرو ہوتی ہے تو ناگہاں اس کو اپنے اندر سے ایک موزون اور لطیف اور لذیذ کلام محسوس ہوجاتی ہے اور یہ غوطہ ربودگی کا ایک نہایت عجیب امر ہے جس کے عجائبات بیان کرنے کے لئے الفاظ کفایت نہیں کرتے۔ یہی حالت ہے جس سے ایک دریا معرفت کا انسان پر کھل جاتا ہے۔ کیونکہ جب بار بار دعا کرنے کے وقت خداوند تعالیٰ اس حالت غوطہ اور ربودگی کو اپنے بندہ پر وارد کرکے اس کی ہریک دعا کا اس کو ایک لطیف اور لذیذ کلام میں جواب دیتا ہے۔ اور ہریک استفسار کی حالت میں وہ حقائق اس پر کھولتا ہے جن کا کھلنا انسان کی طاقت سے باہر ہے