کفایت کرتی ہے۔ مثلاً ایکؔ یہ وجہ بے نظیری کہ وہ باوجود اس قدر ایجاز کلام کے کہ اگر اس کو متوسط قلم سے لکھیں تو پانچ چارجز میں آسکتا ہے۔ پھر تمام دینی صداقتوں پر کہ جو بطور متفرق پہلی کتابوں میں اور انبیاءؔ سلف کے صحیفوں میں پراگندہ اور منتشر تھیں مشتمل ہے۔ اور نیز اس میں یہ کمال ہے کہ جس قدر انسان محنت اور کوشش اور جانفشانی
وہؔ وعدے ٹل جائیں گے کہ جو اس نے اپنے رسول کو دیئے ہیں۔ خدا غالب اور بدلہ لینے والا ہے اور تجھے اسی جگہ پھیر لائے گا۔ جہاں سے تو نکالا گیا ہے۔ یعنے مکہ میں جس سے کفار نے آنحضرت کو نکال دیا تھا۔ یاد رکھو کہ خدا کی مدد بہت ہی قریب ہے۔ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کی طرف رہبری کروں کہ جو تم کو عذاب الیم سے نجات بخشے۔ خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اور خدا کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے کوشش کرو کہ یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ اس سے خدا تمہارے گناہوں کو بخشے گا۔ اور ان بہشتوں میں داخل کرے گا۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں
صدیق آیا ہے۔ اور ان لوگوں کا زمانہ ظہور پیغمبروں کے زمانہ بعث سے بہت ہی مشابہ ہوتا ہے۔ یعنے جیسے پیغمبر اس وقت آتے رہے ہیں کہ جب دنیا میں سخت درجہ پر گمراہی اور غفلت پھیلتی رہی ہے۔ ایسا ہی یہ لوگ بھی اس وقت آتے ہیں کہ جب ہر طرف گمراہی کا سخت غلبہ ہوتا ہے۔ اور حق سے ہنسی کی جاتی ہے۔ اور باطل کی تعریف ہوتی ہے۔ اور کاذبوں کو راستباز قرار دیا جاتا ہے۔ اور دجالوں کو مہدی سمجھا جاتا ہے۔ اور دنیا مخلوق اللہ کی نظر میں بہت پیاری معلومؔ ہوتی ہے جس کی تحصیل کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں۔ اور دین ان کی نظر میں ذلیل اور خوار ہوجاتا ہے۔ ایسے وقتوں میں وہی لوگ حجت اسلام ٹھہرتے ہیں جن کا الہام یقینی اور قطعی ہوتا ہے اور جو ان کامل افراد کے قائم مقام ہوتے ہیں جو اُن سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ الہام یقینی اور قطعی ایک واقعی صداقت ہے جس کا