جن کے جاننے اور معلوم کرنےؔ کیلئے کچھ بھی لیاقت عربی درکار نہیں۔ بلکہ اس درجہ پر بدیہی اور واضح ہیں کہ ادنیٰ عقل جو انسانیت کیلئے ضروری ہے اُن کے سمجھنے کیلئے
یعنےؔ اپنے منجانب اللہ ہونے پر آپ ہی روشن دلیلیں ہیں اور ایمانداروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے خدا کا یہ ارادہ ہورہا ہے کہ اپنے کلام سے حق کو ثابت کرے اور کافروں کے عقائد باطلہ کو جڑھ سے کاٹ دے تا سچے مذہب کی سچائی اور جھوٹے مذہبوں کا جھوٹ ثابت کرکے دکھلاوے اگرچہ مجرم لوگ کراہت ہی کریں۔ اور تو وہ وقت یاد کرکہ جب کافر لوگ تیرے قید کرنے یا قتل کرنے یا نکال دینے پر مکر کرکے منصوبے باندھتے تھے اور مکر کررہے تھے اور خدا بھی مکر کررہا تھا۔ اور خدا سب مکر کرنے والوں سے بہتر ہے۔ سو جہاں تک ان کا بس چل سکا۔ انہوں نے مکر کیا اور ان کے سارے مکر خدا کے قبضہ میں ہیں اور اگرچہ ان کے مکر ایسے ہوں کہ جن سے پہاڑ ٹل جائیں تب بھی یہ گمان مت کر کہ ان سے خدا کے
میں فنا ہوجائیں اور ظاہراً اور باطناً اس کی پیروی اختیار کریں بہ تبعیت اسی رسول کے اس کی برکتوں میں سے عنایت کرتا ہے۔ یہ نہیں کہ صرف زہد خشک تک رکھنا چاہتا ہے۔ اور جب کسی دل پر نبوی برکتوں کا پرتوہ پڑے گا تو ضرور ہے کہ اس کو اپنے متبوع کی طرح علم یقینی قطعی حاصل ہو۔ کیونکہ جس چشمہ کا اس کو وارث بنایا گیا ہے وہ شکوک اور شبہات کی کدورت سے بکلی پاک ہے اور منصب وارث الرسول ہونے کا بھی اسی بات کو چاہتا ہے کہ علم باطنی اس کا یقینی اور قطعی ہو۔ کیونکہ اگر اس کے پاس صرف مجموعہ ظنیات کاؔ ہے تو پھر وہ کیونکر اس ناقص مجموعہ سے کوئی فائدہ خلق اللہ کو پہنچا سکتا ہے۔ تو اس صورت میں وہ آدھا وارث ہوا نہ پورا۔ اور یک چشم ہوا نہ دونوں آنکھوں والا۔ اور جن ضلالتوں کی مدافعت کے لئے خدا نے اس کو قائم کیا ہے۔ ان ضلالتوں کا نہایت پُرزور ہونا۔ اور زمانہ کا نہایت فاسد ہونا اور منکروں کا نہایت مکار ہونا۔ اور غافلوں کا نہایت خوابیدہ ہونا۔ اور مخالفوں کا اشدّ فی الکفر ہونا اس بات کے لئے بہت ہی تقاضا کرتا ہے کہ ایسے شخص کا علم لدنی مشابہ بالرسل ہو۔ اور یہی لوگ ہیں جن کا نام احادیث میں اَمثل اور قرآن شریف میں