کرکے علم دین کے متعلق اپنے فکر اور ادراک سے کچھؔ صداقتیں نکالے یا کوئی باریک دقیقہ پیدا کرے یا اسی علم کے متعلق کسی قسم کے اور حقائق اور معارف یا کسی نوع کے
اور وؔ ہ محل عطا کرے گا کہ جو پاک اور جاودانی بہشتوں میں ہیں۔ یہی انسان کے لئے سعادتِ عظمیٰ ہے۔ اور دوسری یہ ہے جسے تم اِسی دُنیا میں چاہتے ہو کہ خدا کی طرف سے مدد ہے۔ اور فتح قریب ہے اور سست مت ہو۔ اور غم مت کرو۔ اور انجام کار غلبہ تمہیں کو ہوگا اگر تم ایمان پر قائم رہو گے اور تم یہودیوں اور عیسائیوں اور دوسرے مشرکوں سے بہت کچھ دل دکھانے کی باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرو گے اور ہریک طور کی بے صبری اور اضطراب سے پرہیز کرو گے تو اُن لوگوں کے مکر کچھ بھی تمہارا بگاڑ نہیں سکیں گے۔ خدا نے تم میں سے بعض نیکوکار ایمانداروں کے لئے یہ وعدہ ٹھہرا رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین پر
وجود افراد کاملہ امت محمدیہ میں ثابت ہے اور انہیں سے خاص ہے۔ ہاں یہ سچ بات ہے کہ رسولوں کا الہام بہت ہی درخشاں اور روشن اور اجلیٰ اور اقویٰ اور اصفیٰ اور اعلیٰ مراتب یقین کے انتہائی درجہ پر ہوتا ہے اور آفتاب کی طرح چمک کر ہریک ظلمت کو اٹھا دیتا ہے۔ مگر اولیاء کے الہاموں میں سے جب تک معانی کسی الہامی عبارت کے مشتبہ ہوں یا وہ الہام ہی مشتبہ اور مخفی ہو تب تک وہ ایک امر ظنی ہوگا اور ولی کا الہام اسی وقت حد قطع اور یقین تک پہنچے گا کہ جب ضعیف الہاموں کی قسم میں سے نہ ہو بلکہ اپنی کامل روشنی کے ساتھ نازل ہو اور بارش کی طرح متواتر برس کر اور اپنے نوروں کو قوی طور پر دکھلا کر ملہم کے دلؔ کو کامل یقین سے ُ پرکردے اور مختلف تقریروں اور مختلف لفظوں میں اتر کر معنے اور مطلب کو بکلی کھول دے اور عبارت کو متشابہات میں سے ِ بکل الوجوہ باہر کردے اور متواتر دعاؤں اور سوالوں کے وقت خود خداوند تعالیٰ ان معانی کا قطعی اور یقینی ہونا متواتر اجابتوں اور جوابوں کے ذریعہ سے بوضاحت تمام بیان فرماوے۔ جب کوئی الہام اس حد تک پہنچ جائے تو وہ کامل النور اور قطعی اور یقینی ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ اصلاً الہام اولیاء کو