​ راہیںؔ انکے دریافت کرنے کی مسدود ہیں۔ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں۔ یہ بات ہریک اہل علم پر واضح ہے کہ اکثر وجوہ بینظیری فرقان کی ایسی سہل اور سریع الفہم ہیں کہ ​ اور ہمیشہ ہمارا ہی لشکر غالب رہے گا۔ سو اس وقت تک کہ وہ وعدہ پورا ہو ان سے منہ پھیرے رہ اور انکو وہ راہ دکھلا پس عنقریب وہ آپ دیکھ لیں گے ۔اور تجھ سے پہلے جو نبی آئے انکی بھی تکذیب کی گئی تھی۔ پس انہوں نے تکذیب پر صبر کیا اور ایک مدت تک دکھ دیئے گئے یہاں تک کہ ہماری مدد انکو پہنچ گئی۔ چنانچہ گذشتہ رسولوں کی خبریں بھی تجھ کو آچکی ہیں۔ اور جس دنُ تو انکو کوئی آیت نہیں سناتا۔ اس دن کہتے ہیں کہ آج تونے کوئی آیت کیوں نہ گھڑی۔ انکو کہہ کہ میں تو اسی کلام کی پیروی کرتا ہوں کہ جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر نازل ہورہا ہے اپنے دل سے گھڑ لینا میرا کام نہیں اور نہ یہ ایسی باتیں ہیں کہ جنکو انسان اپنے افترا سے گھڑ سکے۔ یہ تو میرے رب کی طرف سے بصائر ہیں۔ اس کی ذات میں بخل نہیں۔ اسکے فضلوں کا کوئی انتہا نہیں اور ترقیات معرفت کی کوئی حد نہیں۔ ہاں پہلے اس نے اظہار علی الغیب کی نعمت اور علم لدنی یقینی قطعی کی دولت اپنے برگزیدہ رسولوں کو دی۔ مگر پھر یہ تعلیم دے کر کہ 3 تمام سچے طالبوں کو خوشخبری دی کہ وہ اپنے رسول مقبول کی تبعیّت سے اس علم ظاہری اور باطنی تک پہنچ سکتے ہیں کہ جو بالاِصالت خدا کے نبیوں کو دیا گیا۔ انہیں معنوں کرکے توعلماء وارث الانبیاء کہلاتے ہیں۔ اور اگر باطنی علم کا ورثہ انکو نہیں مل سکتا۔ تو پھر وہ وارث کیونکر اور کیسے ہوئے۔ کیا آنحضرت نے فرمایا نہیں کہؔ اس امت میں محدّ ث ہوں گے وقال اللہ تعالٰی 3 ۳؂ ۔ 3 ۴؂ ۔ اب تم سوچو کہ اگر علم لدنی کا سارا مدار ظنیات پر ہے تو پھر اسکا نام علم کیونکر ہوگا۔ کیا ظنیات بھی کچھ چیز ہیں جنکا نام علم رکھا جائے۔ پس اس صورت میں3 3 ۵؂ کے کیا معنے ہوں گے۔ پس جاننا چاہئے کہ خدا کے کلام پر غور صحیح کرنے سے اور صدہا تجارب مشہودہ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ افراد خاصہ امت محمدیہ کو جب وہ متابعت اپنے رسول مقبول