کی تمام وجوہ عربی دانی پر ہی موقوف ہیں یا تمام عجائبات قرآنیہ اور جمیع خواص عظمیٰ فرقانیہ صرف عربوں پر ہی کھل سکتے ہیں اور دوسروں کے لئے تمام
سوؔ جب فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس سے ایسا مواخذہ کیا کہ جس کا انجام وبال تھا یعنے اسی مواخذہ سے فرعون نیست و نابود کیا گیا سو تم جو بمنزلہ فرعون ہو۔ ہمارے مواخذہ سے کیونکر نافرمان رہ کر بچ سکتے ہو کیا تمہارے کافر فرعونی گروہ سے کچھ بہتر ہیں یا تم خدا کی کتابوں میں مُعذّب اور ماخوذ ہونے سے مستثنیٰ اور بری قرار دیئے گئے ہو۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بڑی قوی جماعت ہے کہ جو زبردست اور فتحمند ہے عنقریب یہ ساری جماعت پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگے گی اور ہمیشہ ان کافروں کو کوئی نہ کوئی کوفت پہنچتی رہے گی یہاں تک کہ وہ وقتِ موعود آجائے گا جس کا خدا نے وعدہ کیا ہے خدا تخلّف وعدہ نہیں کرے گا اور رسولوں کے حق میں پہلے سے ہماری یہ بات قرار پاچکی ہے کہ ہمیشہ نصرت اور فتح انہیں کے شامل حال رہے گی
جان سے زیادہ چاہتا ہے اور اپنی جان کی ساری طاقتوں سے اوراپنے وجود کی تمام قوتوں سے اس کی طرف دوڑتا ہے۔کیا خدا اس پر رحم نہیں کرتا۔ کیا وہ اس کی طرف نظر اٹھا کرنہیں دیکھتا۔ کیا اس کی دعائیں قبولیت کے لائق نہیں۔ کیا اس کی فریادیں کبھی خدا تک نہیں پہنچ سکتیں۔ کیا خدا اسے ناکامی کی حالت میں ہلاک کردے گا۔ کیا وہ ہزاروں دردوں کے ساتھ قبر میں اترے گا اور خدا اس کا علاج نہیں کرے گا۔ کیا وہ مولیٰ کریم اسے ردّ کردے گا۔ اور چھوڑ دے گا۔ کیا خدا اپنے صادق اور فرمانبردار طالب کو اپنے نبیوں کا راہ نہیں دکھلائے گا۔ اور اپنی خاص نعمت سے متمتع نہیں کرے گا۔ بلاشبہ وہ اپنے طالبوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس کی طرفؔ دوڑتے ہیں وہ ان کی طرف ان سے بہت زیادہ دوڑتا ہے۔ جو لوگ اس کا قرب چاہتے ہیں وہ ان سے بہت ہی قریب ہوجاتا ہے۔ وہ انکی آنکھیں ہوجاتا ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں۔ اور ان کے کان ہوجاتا ہے جس سے وہ سنتے ہیں۔ اب تم آپ ہی سوچو کہ جس کی آنکھیں اور کان وہ عالم الغیب ہے کیا ایسا شخص اپنے لدنی علم میں نور یقین تک نہیں پہنچے گا۔ اور ظنون میں ڈوبا رہے گا۔ تم یقیناً سمجھو کہ صادقوں کے لئے اسی قدر اس کے دروازے کھل جاتے ہیں جس قدر ان کے صدق کا اندازہ ہے۔ اس کے خزائن میں کمی نہیں۔