​ کی بے نظیری کی بعض وجوہ ایسی ہیں کہ ان کے جاننے کے لئے کسی قدر علم عربی درکار ہے۔ مگر یہ بڑی غلطی اور جہالت ہے کہ ایسا خیال کیا جائےؔ کہ اعجاز قرآن ​ اور ؔ بہ تحقیق خدا بڑا طاقت والا اور سزا دینے میں سخت ہے۔ اور ان کی شرارتوں کے دفع کرنے کے لئے خدا تجھے کافی ہے اور وہ سمیع اور علیم ہے اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو کچھ ہم ان کی نسبت وعدہ کرتے ہیں وہ تجھے دکھلاویں اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشان تائید دین کا نازل نہ ہوا۔ سو ان کو کہہ کہ علم غیب خدا کا خاصہ ہے۔ پس تم نشان کے منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں اورکہہ خدا سب کامل صفتوں کا مالک ہے عنقریب وہ تمہیں اپنے نشان دکھلائے گا ایسے نشان کہ تم ان کو شناخت کرلو گے اور خدا تمہارے عملوں سے غافل نہیں ہے۔ ہم نے تمہاری طرف یہ رسول اسی رسول کی مانند بھیجا ہے کہ جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا اور اس بیماری سے ہرگز نہیں مرے گا چنانچہ بعد اسکے ایک ہفتہ نہیں گزرا ہوگا کہ ہندو مذکور اس جاں گداز مرض سے بکلی صحت پاگیا۔ والحمدللہ علی ذلک۔ اب دیکھئے مولوی صاحب!!! ثبوت اسے کہتے ہیں کہ دین کے دشمنوں کاحوالہ دے کر اور دیانند پنڈت کے تابعین کی گواہی ڈال کر مسلمانوں کے سچے اور بابرکت الہام کا ثبوت دیا گیا ہے۔ کیا دنیا میں اس سے مضبوط تر کوئی ثبوت ہوگا کہ خود مذہب کے مخالفوں کو ہی گواہ قرار دیا جائے۔ مہربان من کہاں اور کس ملک میں آپ نے دیکھا کہ کبھی اس قسم کے سچے اور بابرکت الہام جن میں ایک مایوس کے زندہ رہنے کی خبر دی گئی۔ گویا مردہ کے جینے کی بشارت ملی۔ کسی اور فرقہ عیسائی یا آریہ یابرہمو میں ایسے سخت مخالفوں کی گواہی سے ثابت ہوئے ہوں۔ اگر کوئی چشم دیدہ ماجرا یاد ہے تو ایک آدھ کا نام تو بتائیے۔ اب کہئے کہ یہ مبارک الہام خاصّہ امت محمدیہ ہے یانہیں۔ اسی طرح ایسے ہی صدہا اعلیٰ درجے کے الہاموں کی نسبت ہمارے پاس اس قدر ثبوت ہیں کہ جنکو آپؔ گن نہ سکیں۔ آپ نے دن کو رات تو قرار دیا۔ پر اب آفتاب کو کہاں چھپاؤ گے۔ آپ کو دین اسلام کے مخالفوں کے گھروں کی بھی کچھ خبر ہے۔ نور ایمان کیا وہاں تو ایمان ہی نہیں۔ 3۔ ۴؂