​ جاننے کے لئے کوئی دقت اور اشتباہ نہیں۔ اور اگر تعصب اور عناد کی تاریکی درمیان میں نہ ہو۔ تو وہ کامل روشنی ادنیٰ التفات سے معلومؔ ہوسکتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ فرقان مجید ​ کہہؔ اے میری قوم تم بجائے خود کام کرو اور میں بجائے خود کام کرتا ہوں سو تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ کس پر اسی دنیا میں عذاب نازل ہوتا ہے کہ جو اسکورُ سوا کرے اور کس پر جاودانی عذاب نزول کرتا ہے یعنے آخرت کا عذاب جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے اور خدا کی راہ سے روکتے ہیں ان پر ہم آخرت کے علاوہ اسی دنیا میں عذاب نازل کریں گے اور انکے فساد کا انہیں بدلہ ملے گا۔ اور تجھے کافروں کی بداندیشی سے غم ناک نہیں ہونا چاہئے وہ خدا کے دین کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے اور ان کیلئے خدا نے بزرگ عذاب مقرر کررکھا ہے جیسے فرعون کے خاندان اور اس سے پہلے کافروں کا حال ہوا کہ جب انہوں نے خدا کے نشانوں سے انکار کرنا اختیار کیا تو خدا نے ان سے انکے گناہوں کا مواخذہ کیا اور اس بیماری سے ہرگز نہیں مرے گا چنانچہ بعد اسکے ایک ہفتہ نہیں گزرا ہوگا کہ ہندو مذکور اس جاں گداز مرض سے بکلی صحت پاگیا۔ والحمدللہ علی ذلک۔ اب دیکھئے مولوی صاحب!!! ثبوت اسے کہتے ہیں کہ دین کے دشمنوں کاحوالہ دے کر اور دیانند پنڈت کے تابعین کی گواہی ڈال کر مسلمانوں کے سچے اور بابرکت الہام کا ثبوت دیا گیا ہے۔ کیا دنیا میں اس سے مضبوط تر کوئی ثبوت ہوگا کہ خود مذہب کے مخالفوں کو ہی گواہ قرار دیا جائے۔ مہربان من کہاں اور کس ملک میں آپ نے دیکھا کہ کبھی اس قسم کے سچے اور بابرکت الہام جن میں ایک مایوس کے زندہ رہنے کی خبر دی گئی۔ گویا مردہ کے جینے کی بشارت ملی۔ کسی اور فرقہ عیسائی یا آریہ یابرہمو میں ایسے سخت مخالفوں کی گواہی سے ثابت ہوئے ہوں۔ اگر کوئی چشم دیدہ ماجرا یاد ہے تو ایک آدھ کا نام تو بتائیے۔ اب کہئے کہ یہ مبارک الہام خاصّہ امت محمدیہ ہے یانہیں۔ اسی طرح ایسے ہی صدہا اعلیٰ درجے کے الہاموں کی نسبت ہمارے پاس اس قدر ثبوت ہیں کہ جنکو آپؔ گن نہ سکیں۔ آپ نے دن کو رات تو قرار دیا۔ پر اب آفتاب کو کہاں چھپاؤ گے۔ آپ کو دین اسلام کے مخالفوں کے گھروں کی بھی کچھ خبر ہے۔ نور ایمان کیا وہاں تو ایمان ہی نہیں۔ 3۔ ۴؂