​ ورنہ قرآن شریف کی بے نظیری حق کے طالبوں کے لئے ایسی ظاہر اور روشن ہے کہ جو آفتاب کی طرح اپنی شعاعوںؔ کو ہر طرف پھیلا رہی ہے جس کے سمجھنے اور ​ نہیںؔ جانتے۔ کہہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم کو نشان دکھلانے کے لئے اوپر سے کوئی عذاب نازل کرے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے کوئی عذاب نمودار ہو۔ یا ایمانداروں کی لڑائی سے تم کو عذاب کا مزہ چکھاوے۔ دیکھو ہم کیونکر آیات کو پھیرتے ہیں تا وہ سمجھ لیں۔ اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتلاؤ کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ کہہ مجھے تو اپنے نفس کے نفع و ضرر کا بھی اختیار نہیں۔ مگر جو خدا چاہے وہی ہوتا ہے۔ ہریک گروہ کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت مقررہ ان کا پہنچتا ہے تو پھر نہ اس سے ایک ساعت پیچھے ہوسکتے ہیں۔ اور نہ ایک ساعت آگے ہوسکتے ہیں۔ ساتھ ہی کسی قدر روپیہ بھی آیا۔ اور واقعہ مذکورہ سے کچھ دن پہلے ایک نہایت عجیب نشان الٰہی ظہور میں آیا۔ اس کا مختصر بیان یہ ہے کہ ایک ہندو آریہ باشندہ اسی جگہ کا طالب علم مدرسہ قادیان جس کی عمر بیس یا بائیس برس کی ہوگی کہ جو ابھی تک اس جگہ موجود ہے۔ ایک مدت سے بہ مرض دق مبتلا تھا۔ اور رفتہ رفتہ اس کی مرض انتہاء کو پہنچ گئی اور آثار مایوسی کے ظاہر ہوگئے۔ ایک دن وہ میرے پاس آکر اور اپنی زندگی سے ناامید ہوکر بہت بے قراری سے رویا۔ میرا دل اس کی عاجزانہ حالت پر پگھل گیا۔ اور میں نے حضرتِ احدیت میں اس کے حق میں دعا کی۔ چونکہ حضرت احدیت میں اس کی صحت مقدّر تھی۔ اس لئے دعا کرنے کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔ قلنا یا نارُ کونی بردًا و سلامًا۔ یعنے ہم نے تپ کی آگ کو کہا کہ تو سرد اور سلامتی ہوجا۔ چنانچہ اسی وقت اس ہندو اور نیز کئی اور ہندوؤں کو کہ جو اب تک اس قصبہ میں موجود ہیں اور اس جگہ کے باشندہ ہیں۔ اس الہامؔ سے اطلاع دی گئی اور خدا پر کامل بھروسہ کرکے دعویٰ کیا گیا کہ وہ ہندو ضرور صحت پاجائے گا