​ قرآن کی بے نظیری کو کسی صاحب علم سے معلوم کریں۔ بلکہ فرقانی نوروں کو دیکھ کر دوسری طرف مونہہؔ پھیر لیتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ کسی قدر پر َ توہ اس نور کا ان پر پڑ جائے۔ ​ اور ہمؔ نے تجھ سے پہلے کئی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے اور وہ بھی روشن نشان لائے۔ پس آخر ہم نے ان مجرم لوگوں سے بدلہ لیا۔ جنہوں نے ان نبیوں کو قبول نہیں کیا تھا اور ابتداء سے یہی مقرر ہے کہ مومنوں کی مدد کرنا ہم پر ایک حق لازم ہے یعنے قدیم سے عادت الہیہ اسی طرح پر جاری ہے کہ سچے نبی ضائع نہیں چھوڑے جاتے اور ان کی جماعت متفرق اور پراگندہ نہیں ہوتی بلکہ ان کو مدد ملتی ہے اور تجھ سے پہلے بھی پیغمبروں سے ہنسی اور ٹھٹھا ہوتا رہا ہے۔ مگر ہمیشہ ٹھٹھا کرنے والے اپنے ٹھٹھے کا بدلہ پاتے رہے ہیں۔ ان کو کہہ کہ زمین کا سیر کرکے دیکھو کہ جو لوگ خدا کے نبیوں کو جھٹلاتے رہے ہیں ان کا کیا انجام ہوا ہے۔ اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی اپنے رب کی طرف سے کیوں نازل نہ ہوئی۔ کہہ خدا نشانوں کے نازل کرنے پر قادر ہے مگر اکثر لوگ اس ضلع میں اکسٹرا اسسٹنٹ تھے قادیان میں آگئے۔ ان کو بھی اس الہام سے اطلاع دی گئی۔ اور مجھے بخوبی یاد ہے کہ اسی ہفتہ میں میں نے آپ کے دوست مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کو بھی اس الہام سے اطلاع دی تھی۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ اس الہام کے بعد میں نے حسب الارشاد حضرت احدیّت کسی قدر تحریک کی تو تحریک کرنے کے بعد لاہور۔ پشاور۔ راولپنڈی۔ کوٹلہ مالیر اور چند دوسرے مقاموں سے جس قدر اور جہاں سے خدا نے چاہا اس حصہ کے لئے جو چھپتا تھا۔ مدد پہنچ گئی۔ والحمدللہ علی ذلک۔ اور اسی الہام کی قسم میں اورانہیں دنوں میں ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ ایک دن صبح کے وقت کچھ تھوڑی غنودگی میں یکدفعہ زبان پر جاری ہوا۔ عبداللہ خان ڈیرہ اسمعیل خان۔ چنانچہ چند ہندو کہؔ جو اس وقت میرے پاس تھے۔ کہ جو ابھی تک اسی جگہ موجود ہیں۔ ان کو بھی اس سے اطلاع دی گئی۔ اور اسی دن شام کو جو اتفاقاً انہیں ہندوؤں میں سے ایک شخص ڈاک خانہ کی طرف گیا۔ تو وہ ایک صاحب عبداللہ خان نامی کا ایک خط لایا جس کے