حجت نہیں ہوسکتی اور نہ وہ اس سے منتفع ہوسکتے ہیں۔ اما الجواب واضحؔ ہو کہ یہ عذر خام انہیں لوگوں کا ہے جنہوں نے دلی صدق سے کبھی اس طرف توجہ نہیں کی کہ
ہمارا ؔ قانون قدرت یہی ہے کہ ہم اپنے پیغمبروں اور ایمانداروں کو دنیا اور آخرت میں مدد دیا کرتے ہیں۔ خدا نے یہی لکھا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے خدا بڑی طاقت والا اور غالب ہے ۔ اور کافر تجھے خدا کے سوا اور چیزوں سے ڈراتے ہیں ان کو کہہ کہ تم میرے مغلوب کرنے کیلئے اپنے معبودوں سے کہ جو تمہارے زعم میں خدا کے شریک ہیں مدد طلب کرو اور میرے ناکام رہنے کیلئے ہریک طور کا مکر کرو اور مجھے ذرامہلت مت دو۔ میرا کارساز وہ خدا ہے جس نے اپنی کتاب کو نازل کیا ہے اور اس کا یہی قانون قدرت ہے کہ وہ صالحین کے کاموں کو آپ کرتا ہے اور ان کی مہمّات کا خودُ متولی ہوتا ہے اور اپنے خداوند کے حکم پر صبر کر اور صبر سے اسکے وعدوں کا انتظار کر تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے خدا تجھے ان لوگوں کے شر سے بچائے گا کہ جو تیرے قتل کرنے کی گھات میں ہیں۔
خاکسار کو ہوا۔ تو قریب دس یا پندرہ ہندو اور مسلمان لوگوں کے ہوں گے کہ جو قادیان میں اب تک موجود ہیں جن کو اسی وقت اس الہام سے خبر دی گئی اور پھر اسی کے مطابق جیسے لوگوں کی طرف سے عدم توجہی رہی۔ وہ حال بھی ان تمام صاحبوں کو بخوبی معلوم ہے۔ دوسری قسم الہام کی یعنے وہ قسم جس میں کچھ ملائمت سے کلمات زبان پر جاری ہوتے ہیں۔ اس قسم میں اپنے ذاتی مشاہدات میں سے صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ جب پہلے الہام کے بعد جس کو میں ابھی ذکر کرچکا ہوں ایک عرصہ گزر گیا اور لوگوں کی عدم توجہی سے طرح طرح کی دقّتیں پیش آئیں اور مشکل حد سے بڑھ گئی تو ایک دن قریب مغرب کے خداوند کریم نے یہ الہام کیا۔ ھزِالیک بجذع النخلۃ تساقط علیک رطبا جنیًّا۔ سو میں نے سمجھ لیا کہ یہ تحریک اور ترغیب کی طرف اشارہ ہے اور یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ بذریعہ تحریک کے اس حصہ کتاب کے لئے سرمایہ جمع ہوگا۔ اور اس کی خبر بھی بدستور کئی ہندو اور مسلمانوں کو دی گئی اور اتفاقاً اسی روز یا دوسرے روز حافظ ہدایت علی خان صاحب کہ جو ان دنوں