کسی واضح دلیل سے ثابت کرنی چاہئے۔ کیونکہ اس کیؔ بے مثل بلاغت پر صرف وہی شخص مطلع ہوسکتا ہے جس کی اصل زبانی عربی ہو۔ اور لوگوں پر اس کی بے نظیری
کافروؔ ں کو کہہ دے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے اور پھر آخر جہنم میں پڑو گے۔ جو کچھ تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے یعنے دین اسلام کا عزت کے ساتھ دنیا میں پھیل جانا اور اسکے روکنے والوں کا ذلیل اور رسوا ہونا۔ یہ وعدہ عنقریب پورا ہونیوالا ہے اور تم ہرگز اسکو روک نہیں سکو گے۔ یہود نے کہا کہ خدا کا ہاتھ باندھا ہوا ہے یعنے جو کچھ ہے انسان کی تدبیروں سے ہوتا ہے اور خدا اپنے قادرانہ تصرفات سے عاجز ہے۔ سو خدا نے ہمیشہ کیلئے یہودیوں کے ہاتھ کو باندھ دیا ہے تا اگر انکے فکر اور ان کی تدبیریں کچھ چیز ہیں تو انکے زور سے دنیا کی حکومتیں اور بادشاہتیں حاصل کرلیں۔ ان پر ذلت کی مار ڈالی گئی ہے۔ یعنی جہاں رہیں گے ذلیل اور محکوم بن کر رہیں گے اور ان کیلئے یہ مقرر کیا گیا ہے کہ بجز کسی قوم کے ماتحت رہنے کے کسی کی ملک میں خودبخود عزّت کے ساتھ نہیں رہیں گے ہمیشہ کمزوری اور ناتوانی اور بدبختی انکے شامل رہے گی وجہ یہ کہ وہ خدا کے نشانوں سے انکار کرتے رہے ہیں اور خدا کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں یہ اسلئے کہ وہ معصیت اور نافرمانی میں حد سے زیادہ بڑھ گئے
حکمت اور مصلحت سے کسی خاص دعا کو منظور کرنا نہیں چاہتا۔ یا کسی عرصہ تک توقّف ڈالنا چاہتا ہے یا کوئی اور خبر پہنچانا چاہتا ہے کہ جو بمقتضائے بشریت انسان کی طبیعت پر گراں گزرتی ہو۔ مثلاً جب انسان جلدی سے کسی امر کا حاصل کرلینا چاہتا ہو اور وہ حاصل ہونا حسب مصلحت ربانی اس کے لئے مُقدّر نہ ہو یا توقّف سے مقّدر ہو۔ اس قسم کے الہام بھی یعنے جو سخت اور گراں صورت کے الفاظؔ خدا کی طرف سے زبان پر جاری ہوتے ہیں بعض اوقات مجھ کو ہوتے رہے ہیں جس کا بیان کرنا موجب طوالت ہے مگر ایک مختصر فقرہ بطور نمونہ بیان کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ شاید تین سال کے قریب عرصہ گزرا ہوگا کہ میں نے اسی کتاب کے لئے دعا کی کہ لوگ اس کی مدد کی طرف متوجہ ہوں تب یہی الہام شدید الکلمات جس کی میں نے ابھی تعریف کی ہے ان لفظوں میں ہوا( بالفعل نہیں) اور یہ الہام جب اس