یہی واجب معلوم ہوتا ہے کہ کلام خدا بےؔ مثل چاہئے۔ لیکن ایسا کلام کہاں ہے جس کا بے مثل ہونا کسی صریح دلیل سے ثابت ہو۔ اگر قرآن بے نظیر ہے تو اس کی بے نظیری ​ بعضؔ یہود اور عیسائیوں نے کہا کہ یوں کرو کہ دن کے اول وقت میں تو ایمان لاؤ اور دن کے آخری وقت یعنے شام کو حقیت اسلام سے منکر ہوجاؤ۔ تا شاید اسی طور سے لوگ اسلام کی طرف رجوع کرنے سے ہٹ جائیں۔ سو ہم ان کو ایک سخت عذاب چکھائیں گے اور جیسے ان کے برے اور بدتر عمل ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا۔ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھائیں پر خدا اپنے کام سے ہرگز نہیں رکے گا۔ جب تک اس نور کو کامل طور پر پورا نہ کرے اگرچہ کافر لوگ کراہت ہی کریں۔ وہ خدا وہ قادر ذوالجلال ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لئے بھیجا ہے تا دنیا کے تمام دینوں پر اس کو غالب کرے اگرچہ مشرک لوگ کراہت ہی کریں۔ صورتِ اوّل الہام کی منجملہ ان کئی صورتوں کے جن پر خدا نے مجھ کو اطلاع دی ہے یہ ہے کہ جب خداوند تعالیٰ کوئی امر غیبی اپنے بندہ پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو کبھی نرمی سے اور کبھی سختی سے بعض کلمات زبان پر کچھ تھوڑی غنودگی کی حالت میں جاری کردیتا ہے۔ اور جو کلمات سختی اور گرانی سے جاری ہوتے ہیں وہ ایسی پُرشدّت اور عنیف صورتؔ میں زبان پر وارد ہوتے ہیں جیسے گڑھے یعنے اولے بیکبارگی ایک سخت زمین پر گرتے ہیں یا جیسے تیز اور پرزور رفتار میں گھوڑے کا ُ سم زمین پر پڑتا ہے۔ اس الہام میں ایک عجیب سرعت اور شدّت اور ہیبت ہوتی ہے جس سے تمام بدن متاثر ہوجاتا ہے اور زبان ایسی تیزی اور بارعب آواز میں خودبخود دوڑتی جاتی ہے کہ گویا وہ اپنی زبان ہی نہیں اور ساتھ اس کے جو ایک تھوڑی سی غنودگی اور ربودگی ہوتی ہے وہ الہام کے تمام ہونے کے بعد فی الفور دور ہوجاتی ہے۔ اور جب تک کلمات الہام تمام نہ ہوں۔ تب تک انسان ایک میت کی طرح بے حس و حرکت پڑا ہوتا ہے۔ یہ الہام اکثر ان صورتوں میں نازل ہوتا ہے کہ جب خداوند کریم و رحیم اپنی عین