​ میں یکتا اور بے نظیر ہوناؔ سب کے نزدیک مسلم ہے۔ صداقت مذکورہ کے ماننے سے مونہہ پھیرتا ہے۔ بعض اسلام کے مخالف یہ حجت پیش کرتے ہیں کہ اگرچہ عقلی طور پر ​ اور وؔ ہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جو ہمیشہ باطل کی آمیزش سے منزّ ہ رہے گی۔ اور کوئی باطل اس کا مقابلہ نہیں کرسکا اور نہ آئندہ کسی زمانہ میں مقابلہ کرے گا۔ یعنی اس کی کامل صداقتیں کہ جوہریک باطل سے منزّہ ہیں۔ تمام باطل پرستوں کو کہ جو پہلے اس سے پیدا ہوئے یا آئندہ کبھی پیدا ہوں ملزم اور لاجواب کرتی رہیں گی اور کوئی مخالفانہ خیال اس کے سامنے تاب مقاومت نہیں لائے گا۔ اور جو شخص اس کے قبول کرنے سے انکار کرے۔ وہ خدا کو اپنا غلبہ ظاہر کرنے سے روک نہیں سکے گا۔ اور خدا کے مقابلہ پر کوئی اس کا حمائتی نہیں۔ ہم نے یہ کلام آپ اتارا ہے اور ہم آپ ہی اس کے نگہبان رہیں گے۔ ان کو کہہ کہ حق آگیا اور باطل بعد اس کے نہ اپنی کوئی نئی شاخ نکالے گا۔ جس کا ردّ قرآن میں موجود نہ ہو اور نہ اپنی پہلی حالت پر عود کرے گا۔ اور کافروں نے کہا کہ اس وقت قرآن کو مت سنو۔ اور جب تم کو سنایا جائے تو تم بک بک کرنے سے اس میں ایک شور ڈال دیا کرو۔ شاید اسی طرح تم کو غلبہ ہو۔ اور مطلب میں ہمارا اور ان کا بکلّی اتفاق ہے تا لوگ ان کی نسبت شُبہ اور شک میں نہ رہیں اور ان کی مشتبہ کلام موجب فتنہ نہ ٹھہرے۔ اور اگر یہ حال ہے کہ مولوی صاحب کوخود اسی امر میں شک ہے کہ خدا کسی مسلمان سےؔ بطور الہام بھی کلام کرتا ہے تو یہ عاجز بفضل اللہ و رحمتہ و بحکم واما بنعمۃ ربک فحدث کسی قدر بطور نمونہ ایسے الہامات بیان کرسکتا ہے جن سے خود یہ عاجز مشرف ہوا اور جن سے مولوی صاحب کو بکلی تسلی اور تشفی حاصل ہوجائے اور جن پر غور کرنے سے یہ بھی مولوی صاحب کو معلوم ہو کہ یہ علوم ربانی اور اسرار آسمانی کہ جو مسلمانوں پر بذریعہ الہام یقینی اور قطعی منکشف ہوتے ہیں یہ اسلام کے مخالفوں کو ہرگز حاصل نہیں ہوسکتے اور نہ کبھی ہوئے اور نہ کسی مخالف اسلام کی طاقت ہے کہ ان کے مقابلہ پر دم مار سکے۔ چنانچہ وہ بعض الہامات جن کو میں اس جگہ لکھنا مناسب سمجھتا ہوں بہ تفصیل ذیل ہیں