​ تو اسؔ صورت میں نہایت درجہ کا نادان وہ شخص ہے کہ جو افراد ناقصہ انسانی میں تو اس صداقت کو مانتا ہے مگر اس ذات کامل کے کلام مقدس میں جس کا اپنے علوم تامہ ​ اور اگر خدا ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا تو زمین اور آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب بگڑ جاتا۔ بلکہ ہم ان کے لئے وہ ہدایت لائے ہیں جس کے وہ محتاج ہیں۔ سو جس ہدایت کے وہ محتاج ہیں اسی سے کنارہ کش ہیں۔ کیا میں تم کو یہ خبردوں کہ جنات کن لوگوں پر اترا کرتے ہیں۔ جنات انہیں پر اترا کرتے ہیں کہ جو دروغگو اور معصیت کار ہیں اور اکثر ان کی پیشینگوئیاں جھوٹی ہوتی ہیں اور شاعروں کی پیروی تو وہی لوگ کرتے ہیں کہ جو گمراہ ہیں۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ شاعر لوگ قافیہ اور ردیف کے پیچھے ہریک جنگل میں بھٹکتے پھرتے ہیں یعنی کسی حقانی صداقت کے پابند نہیں رہتے اور جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں اور ظالموں کو عنقریب معلوم ہوگا کہ ان کا مرجع اور مآب کون سی جگہ ہے ۔اور قرآن کو ہم نے ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے اور حقّانیّت کے ساتھ اترا ہے۔ سب معانی ناجائز اور غیر صحیح ٹھہریں گے نعوذ باللّٰہ من زلۃ الفکر وقلۃ النظر غرضؔ یہ کسی پر پوشیدہ نہیں کہ ہریک علم میں خواہ علم ادیان ہو اور خواہ علم ابدان اور خواہ کوئی دوسرا علم ہو۔ ایسے الفاظ عرفیہ ضرور مستعمل ہوا کرتے ہیں جن سے مقاصد اصطلاحی اس علم کے واضح اور روشن ہوجائیں اور علماء کو اس بات سے چارہ اور گریز گاہ نہیں کہ اس علم کے افادہ اور استفادہ کی غرض سے بعض الفاظ کے معانی اپنے عرف میں اپنے مطلب کے موافق مقرر کرلیں کمالا یخفی علی الناظر۔ لیکن اگر مولوی صاحب عرف علماء کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو انہیں اختیار ہے کہ جو اولیاء اللہ کو خدا کی طرف سے کوئی غیبی خبر دی جاتی ہے۔ اس کا نام وحی اِطلاع اور وحی اِعلام رکھیں۔ مگر مناسب ہے کہ اس قدر ضرور ظاہر کردیں کہ ہم میں اور دوسری تمام جماعت مسلمانوں میں نزاع لفظی ہے یعنے جن علامات الٰہیہ کا نام ہم وحی رکھتے ہیں انہیں کو علماء اسلام اپنے عرف میں الہام بھی کہہ دیا کرتے ہیں۔ لیکن اصل