قدرتوں کے تابع ہے۔ کیا کوئی ایسا انسان بھی ہے جس نے اپنے ؔ ذاتی تجربہ اور مشاہدہ سے کسی جزئی میں اس سچائی کو دیکھ نہیں لیا؟ پس جبکہ یہ صداقت اس قدر قوی اور مستحکم اور شائع اور متعارف ہے کہ کسی درجہ کی عقل اس کے سمجھنے سے قاصر نہیں سو کیا تم دیدہ و دانستہ جادو کے بیچ میں آتے ہو۔ پیغمبر نے کہا کہ میرا خدا ہر بات کو جانتا ہے خواہ آسمان میں ہو خواہ زمین میں وہ اپنی ذات میں سمیع اور علیم ہے جس سے کوئی بات چھپ نہیں سکتی۔ مگر کافر پیغمبر کی کب سنتے ہیں وہ تو قرآن کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ یہ پراگندہ خوابیں ہیں بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نے آپ بنالیا ہے۔ بلکہ ان کا یہ بھی مقولہ ہے کہ یہ شاعر ہے۔ بھلا اگر سچا ہے تو ہمارے روبرو کوئی نشان پیش کرے جیسے پہلے نبی بھیجے گئے تھے۔ انسان کی فطرت میں جلدی ہے عنقریب میں تم کو اپنے نشان دکھلاؤں گا۔ سو تم مجھ سے جلدی تو مت کرو۔ عنقریب ہم ان کو معمورہ عالم کے کناروں تک نشان دکھلائیں گے اور خود انہیں میں ہمارے نشان ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ حق ان پر کھل جائے گا۔ کیا یہ کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے نہیں بلکہ بات تو یہ ہے کہ خدا نے ان کی طرف حق بھیجا اور وہ حق کے قبول کرنے سے کراہت کررہے ہیں۔ تو پھر اس سے انحراف کرنا صریح تحکّم ہے۔ کیا مولوی صاحب کو معلوم نہیں کہ علم شریعت میں اسی طرح صدہا عرفی الفاظ ہیں جن کے مفہوم کو لغوی معنوں میں محدود کرنا ایک ضلالت ہے خود وحی کے لفظ کو دیکھئے کہ اس کے وہ معنے جن کی رو سے خدا کی کتابیں وحی رسالت کہلاتی ہیں کہاں لغت سے ثابت ہوتے ہیں اور کس کتابِ لغت میں وہ کیفیت نزول وحی لکھی ہے جس کیفیت سے خدا اپنے مرسلوں سے کلام کرتا ہے اور اُن پر اپنے احکام نازل کرتا ہے۔ اسی طرح اسلام کے لفظ میں نظر کیجئے کہ اس کے لغوی معنے تو صرف یہی ہیں کہ جو کسی کو کام سونپا یا ترک مقابلہ اور فروگذاشت اور اطاعت اس میں یہ مضمون کہاں ماخوذ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بھی کہنا۔ پس اگر ہریک لفظ کا لغت ہی سے فیصلہ کرنا چاہئے تو اس حالت میں اسلام بھی الہام کی طرح مولوی صاحب کے نزدیک صرف صُلح یا کام سونپنے کا نام ہوگا اور دوسرے