اپنے ہیچ اور ناچیز علم کو برابرؔ کرسکے۔ کیا اس صداقت کے ثابت ہونے میں ابھی کچھ کسر رہ گئی ہے کہ کلام کی تمام ظاہری باطنی شوکت و عظمت علمی طاقتوں اور عملی
اس بات پر اتفاق کریں کہ قرآن جیسی کوئی اور کتاب بنالاویں تو وہ کبھی بنا نہیں سکیں گے۔ اگرچہ بعض بعض کے مددگار بھی ہوں۔ اور اگر تم اس کلام کے بارے میں کہ جو ہم نے اپنے بندہ پر نازل کیا ہے کسی نوع کے شک میں ہو یعنی اگر تمہارے نزدیک اس نے وہ کلام آپ بنالیا ہے یا جنات سے سیکھا ہے یا جادو کی قسم ہے یا شعر ہے یا کسی اور قسم کا شک ہے تو تم بھی اگر سچے ہوتو بقدر ایک سورۃ اس کی مثل بناکر دکھلاؤ اور اپنے دوسرے مددگاروں یا معبودوں سے مدد لے لو اور اگر نہ بناسکو اور یاد رکھو کہ ہرگز بنا نہیں سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو کافروں کیلئے طیار کی گئی ہے۔ اور کافر باہم پوشیدہ طور پر یہ باتیں کرتے ہیں کہ یہ جو پیغمبری کا دعویٰ کرتا ہے اس میں کیا زیادتی ہے ایک تم سا آدمی ہے
وہ باعتبار لغوی معنوں کے اطلاق نہیں پاتا۔ بلکہ اطلاق اس کا باعتبارعرف علماء اسلام ہے۔ کیونکہ قدیم سے علماء کی ایسی ہی عادت جاری ہوگئی ہے کہ وہ ہمیشہ وحی کو خواہ وحی رسالت ہو یا کسی دوسرے مومن پر وحی اعلام نازل ہو۔ الہام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس عرف کو وہی شخص نہیں جانتا ہوگا جس کو حق کے قبول کرنے سے کوئی خاص غرض سدّراہ ہے۔ ورنہ قرآن شریف کی صدہا تفسیروں میں سے اور کئی ہزار کتب دین میں سے کسی ایک تالیف کو بھی کوئی پیش نہیں کرسکتا جس میں اس اطلاق سے انکار کیا گیا ہو۔ بلکہ جابجا مفسّروں نے وحی کے لفظ کو الہام ہی سے تعبیر کیا ہے۔ کئی احادیث میں بھی یہی معنے ملتے ہیں جس سے مولوی صاحب بے خبر نہیں ہیں۔ پھر نہ معلوم کہ مولوی صاحب نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ لفظ الہام کے کتب دین میں وہی معنے کرنے چاہئیں کہ جو کتب لغت میں مُندرج ہیںؔ ۔ جب کہ سواد اعظم علماء کا الہام کو وحی کا مترادف قرار دینے میں متفق ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمنے بھی اس کو استعمال کیا ہے۔