کمالاتؔ تامہ اور اپنی جمیع صفات میں واحد لاشریک ہے۔ اس سے مساوات کسی ذرہ امکان کی کیونکر جائز ہو اور کیونکر کوئی مخلوق ہوکر خالق کے علوم غیر متناہیہ سے
یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں کہ جو جامع علوم حکمیہ ہے۔ کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ جو ہم نے ان میں سے ایک کی طرف یہ وحی بھیجی کہُ تو لوگوں کو ڈرا۔ اور ان کو جو ایمان لائے یہ خوشخبری دے کہ ان کے لئے ان کے رب کے نزدیک قدم صدق ہے۔ کافروں نے اس رسول کی نسبت کہا کہ یہ تو صریح جادوگر ہے۔ اور انہوں نے رسول کو مخاطب کرکے کہا کہ اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ُ تو تو دیوانہ ہے۔ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی ایسا رسول نہیں آیا جس کو انہوں نے ساحر یا مجنون نہیں کہا۔ کیا انہوں نے ایک دوسرے کو وصیت کررکھی تھی۔ نہیں بلکہ یہ قوم ہی طاغی ہے سو انہیںُ تو حق کا راستہ یاد دلاتا رہ۔ اور خدا کے فضل سے نہُ تو کاہن ہے اور نہ تجھے کسی ِ جن کا آسیب اور دیوانگی ہے۔ ان کو کہہ کہ اگر تمام جن اور آدمی
کرنا مریم سے بطور الہام خدا کا کلام کرنا۔ حواریوں سے بطورِ الہام خدا کا کلام کرنا خود قرآن شریف میں مندرج اور مرقوم ہے۔ حالانکہ ان سب میں سے نہ کوئی نبی تھا اور نہ کوئی رسول تھا۔ اور اگر مولوی صاحب یہ جواب دیں کہ ہم اولیاء اللہ کے ملہم من اللہ ہونے کے قائل تو ہیں مگر اس کا نام الہام نہیں رکھتے بلکہ وحی رکھتے ہیں۔ اور الہام ہمارے نزدیک صرف دل کے خیال کا نامؔ ہے جس میں کافر اور مومن اور فاسق اور صالح مساوی ہیں اور کسی کی خصوصیت نہیں تو یہ صرف نزاع لفظی ہے اور اس میں بھی مولوی صاحب غلطی پر ہیں۔ کیونکہ لفظ الہام کہ جو اکثر جگہ عام طور پر وحی کے معنوں پر اطلاق پاتا ہے۔