وسیع العلم اور قوی العقل کے فکر رسا تک محدود العلم اور ضعیف العقل ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔ تو پھر خدا جو شرکت نوعی سے بکلی پاک اور بلاشُبہ مُستجمع
اور اپنی کامیابی اور دشمن کی ناکامی اور اپنی فتح اور دشمن کی شکست اور اپنی ہمیشہ کی سرسبزی اور دشمن کی تباہی ظاہر کی ہے۔ کیا اس قسم کی پیشین گوئیاں کوئی نجومی بھی کرسکتا ہے۔ یا کسی رمال یا مسمریزم کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوسکتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ ہمیشہ اپنی ہی خیر ظاہر کرنا اور مخالف کا زوال اور وبال جتلانا اور جو بات مخالف مونہہ پر لاوے اُسی کو توڑنا اور جو بات اپنے مطلب کی ہو اس کے ہوجانے کا وعدہ کرنا۔ یہ تو صریح خدائی ہے انسان کا کام نہیں۔ اس بات کو بخوبی سمجھانے کی غرض سے ہم چند آیات قرآن شریف جو امور غیبیہ پر مشتمل ہیں بطور نمونہ ذیل میں معہ ترجمہ لکھتے ہیں۔ تا عقلمند لوگ کہ جو اہل انصاف اور خدا ترس ہیں بغور تمام پڑھ کر اور ان سب پیشین گوئیوں کو یکجائی نظر سے دیکھ کر خود انصاف کریں کہ کیا ایسے اخبار غیب بیان کرنا بجز خدائے قادر مطلق کسی انسان کا کام ہے۔ اور وہ آیات معہ خلاصہ ترجمہ یہ ہیں
کہ جو خیالات سے خالی ہو۔ اس کے بعد مولوی صاحب نے چند مجمل اور مبہم باتیں لکھ کر تقریر کو ختم کردیا ہے۔ اور کوئی ایسی عبارت تصریح اور توضیح سے نہیں لکھی جس سے معلوم ہوتا کہ مولوی صاحب اس بات کے قائل اور اقراری ہیں کہ اولیاء اللہ اور مومنین کاملین خدا کے حضور میں ایک خاص رابطہ رکھتے ہیں اور خدا ان کو اپنےؔ کلام کے ذریعہ سے جب چاہتا ہے بعض امور غیبیہ پر مطلع کرتا ہے اور اپنے کلمات پاک سے ان کو مشرف کرتا ہے اور دوسروں کو وہ مرتبہ بحکم ھَلْ یستوِی الاَعمٰی والبصیر نہیں مل سکتا۔ غرض مولوی صاحب کی اس طرزتحریر سے کہ جو ان کے رسالہ میں درج ہے ضرور یہ شبہ گزرتا ہے کہ ان کو اولیاء اللہ کے الہام کی نسبت کچھ دل میں خلجان ہے۔ اگر خدانخواستہ مولوی صاحب کا منشاء یہی ہے کہ جو سمجھا جاتا ہے۔ تو کچھ شک نہیں کہ مولوی صاحب نے بڑی بھاری غلطی کی ہے۔ اولیاء اللہ کے ملہم من اللہ ہونے سے انکار کرنا ہریک مسلمان سے بعید ہے اور مولوی صاحبوں سے بعیدتر۔ کیا مولوی صاحب کو معلوم نہیں کہ حضرت موسیٰ کی والدہ سے بطورِ الہام خدا کا کلام