اور قُدرت میں فرق ہے۔ جس حالت میں افراد انسانی نوع واحد میں داخل ہوکر پھر بھی بوجہ تفاوت علم اور عقل اور تجربہ اور مشق کےؔ متفاوت البیان پائی جاتی ہیں اور
بے عزت اور دون ہمت اور دنی النفس اور ناکام اور نامراد ہی نظر آتے ہیں اور امور غیبیہ کو اپنی حسب مراد ہرگز نہیں کرسکتے بلکہ ان کے حالات پر خدا کے قہر کی علامات نمودار ہوتی ہیں اور خدا کی طرف سے کوئی برکت اور عزت اور نصرت ان کے شامل حال نہیں ہوتی۔ مگر انبیاء اور اولیاء صرف نجومیوں کی طرح امور غیبیہ کو ظاہر نہیں کرتے بلکہ خدا کے کامل فضل اور بزرگ رحمت سے کہ جو ہر دم ان کے شامل حال ہوتی ہے۔ ایسی اعلیٰ پیشین گوئیاں بتلاتے ہیں جن میں انوار قبولیت اور عزت کے آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں اور جو عزت اور نصرت کی بشارت پر مشتمل ہوتے ہیں نہ نحوست اورنہ نکبت پر* قرآن شریف کی پیشین گوئیوں پر نظر ڈالو۔ تو معلوم ہو کہ وہ نجومیوں وغیرہ درماندہؔ لوگوں کی طرح ہرگز نہیں ۔ بلکہ ان میں صریح ایک اقتدار اور جلال جوش مارتا ہوا نظر آتا ہے اور اس میں تمام پیشین گوئیوں کا یہی طریق اور طرز ہے کہ اپنی عزت اور دشمن کی ذلت اور اپنا اقبال اور دشمن کا ادبار
ان دنوں مولوی ابوعبداللہ صاحب قصوری کا ایک رسالہ جس کے خاتمہ میں انہوں نے الہام اور وحی کے بارے میں کچھ اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ اتفاقاً میری نظر سے گزرا۔ اگرچہ صحت اور صفائی سے اچھی طرح نہیں کھلتا کہ مولوی صاحب ممدوحؔ کی اس تحریر کا کیا منشاء ہے۔ مگر جس قدر لوگوں نے میرے پاس بیان کیا ہے اور جو کچھ میں نے اس رسالہ کو پڑھ کر معلوم کیا ہے وہ شکی طور پر اس وہم میں ڈالتا ہے کہ گویا مولوی صاحب کو اولیاء اللہ کے الہام سے انکار ہے۔ واللّٰہ اعلم بما فی قلبہم۔ بہرحال جو کچھ میں نے ان کے رسالہ سے سمجھا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اول حضرت موصوف نے ایک لفظی بحث شروع کرکے الہام کی بابت لکھا ہے کہ الہام کے معنے لغت میں یہ ہیں۔ الہام چیزے در دل انداختن و آنچہ خدا در ردل اندازد۔ اور پھر جھٹ پٹ اس پر یہ رائے ظاہر کردی ہے کہ جب کہ الہام صرف دل کے خیال کا نام ہے خواہ نیک ہو خواہ بد۔ تو پھر اس سے کسی ولی یا صالح یا ایماندار کی خصوصیت نہیں کیونکہ سب کسی کو انواع و اقسام کے خیالات دل میں گزرا
کرتے ہیں۔ اور دنیا میں کون ہے