بُرہانِ اِنّیکی طرز پر اثر کے وجود کو مؤثر کے وجود کی دلیل ٹھہرائی ہے جسؔ کا دوسرے لفظوں میں خلاصہ مطلب یہ ہے کہ علم الٰہی بوجہ اپنی کمالیّت اور جامعیت کے ہرگز
شرائط قرآن شریف میں ہیں جیسے انشاء اللہ ثبوت اس کا اپنے موقعہ پر ہوگا۔ پس اگر اب بھی برہمو سماج والوں کو ایسے الہام کے وجود سے انکار ہو کہ جو امور غیبیہ اور دوسرے امور قدرتیہ پر مشتمل ہو۔ تو ان کو اپنی آنکھ کھولنے کے لئے قرآن شریف کو بغور تمام دیکھنا چاہیئے تا انہیں معلوم ہو کہ کیسے اس کلام پاک میں ایک دریا اخبار غیب کا اور نیز ان تمام امور قدرتیہ کا کہ جو انسانی طاقتوں سے باہر ہیں بہ رہا ہے اور اگرچہ بوجہ قلت بصیرت و بصارت ان فضائل قرآنیہ کو خودبخود معلوم نہ کرسکیں تو ہماری اس کتاب کو ذرا آنکھ کھول کر پڑھیں تا وہ خزائن امور غیبیہ و اسرار قدرتیہ کہ جو قرآن شریف میں بھرے پڑے ہیں بطور مشتے نمونہ از خروارے ان کو معلوم ہوجائیں اور یہ بھی ان کو معلوم رہے کہ تحقق وجود الہام ربانی کے لئے کہ جو خاص خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اور بھی راستہ کھلا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ امت محمدیہ میں کہ جو سچے دین پر ثابت اور قائم ہیں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا ہے کہ جو خدا کی طرف سے ملہم ہوکر ایسے امور غیبیہ بتلاتے ہیں جن کا بتلانا بجز خدائے واحد لاشریک کے کسی کے اختیار میں نہیں۔ اور خداوند تعالیٰ اس پاک الہام کو انہیں ایمانداروں کو عطا کرتا ہے کہ جو سچے دل سے قرآن شریف کو خدا کا کلام جانتے ہیں اور صدق اور اخلاص سے اس پر عمل کرتے ہیں اور حضرت محمد مصطفی صلوسلم عل کو خدا کا سچا اور کامل پیغمبر اور سب پیغمبروں سے افضل اور اعلیٰ اور بہتر اور خاتم الرسل اور اپنا ہادی اور رہبر سمجھتے ہیں۔ دوسروں کو یہ الہام یعنے یہودیوں۔ عیسائیوں۔ آریوں۔ برہمیوں وغیرہ کو ہرگز نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ قرآن شریف کے کامل تابعین کو ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہوتا ہے اور آئندہ بھی ہوگا۔ اور گو وحی رسالت بجہت عدم ضرورت منقطع ہے لیکن یہ الہام کہ جو آنحضرت صلوسلم عل کے بااخلاص خادموں کو ہوتا ہے یہ کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہوگا۔ اور یہ الہام وحی رسالت پر ایک عظیم الشان ثبوت ہے جس کے سامنے ہریک منکر و مخالف اسلام ذلیل اور رسوا ہے اور چونکہ یہ مبارک الہام