​ انسان کے ناقص علم سے متاشبہ نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ضرور ہے کہ جو کلام اس کامل اور بے مثل علمؔ سے نکلا ہے۔ وہ بھی کامل اور بے مثل ہی ہو۔ اور انسانی کلاموں سے بکلی اپنی تمام برکت اور عزت اور عظمت اور جلال کے ساتھ صرف ان عزت دار بندوں میں پایا جاتا ہے کہ جو امت محمدیہ میں داخل ہیں اور خدام آنحضرت والا جاہ ہیں۔ دوسرے کسی فرقہ میں یہ نور کامل کہ جو تقرب اور قبولیت اور خوشنودی حضرتِ عزّت کی بشارتیں بخشتا ہے ہرگز پایا نہیں جاتا اس لئے وجودؔ اس مبارک الہام کا صرف نفس الہام کی حقانیت کو ثابت نہیں کرتا۔ بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ دنیا میں مقبول اور مستقیم دین پر جو فرقہ ہے وہ فقط اہل اسلام ہی کا فرقہ ہے اور باقی سب لوگ باطل پرست اور کجرو اور موردِ غضب الٰہی ہیں۔ نادان لوگ میری اس بات کو سنتے ہی طرح طرح کی باتیں بنائیں گے اور انکار سے سر ہلائیں گے یا احمقوں اور شریروں کی طرح ٹھٹھا کریں گے۔ مگر ان کو سمجھنا چاہیئے کہ خواہ نخواہ انکار اور ہنسی سے پیش آنا شریف النفس اور طالب الحق انسانوں کا کام نہیں۔ بلکہ اُن خبیث الطینت اور شریر النفس لوگوں کا کام ہے جن کو خدا اور راستی سے غرض نہیں۔ دنیا میں ہزارہا چیزوں میں ایسے خواص ہیں کہ جو عقلی طور پر سمجھے نہیں جاتے صرف تجربہ سے انسان ان کو سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے عام طور پر تمام عقلمندوں کا یہی قاعدہ ہے کہ جب تکرار تجربہ سے کسی چیز کی خاصیت ظاہر ہوجاتی ہے تو پھر اس خاصیت کے تحقق وجود میں کسی عاقل کو شک باقی نہیں رہتا۔ اور آزمانے کے بعد وہی شخص شک کرتا ہے کہ جو نرا گدھا ہے۔ مثلاً تربد میں جو قوت اسہال ہے یا مقناطیس میں جو قوت جذب ہے۔ اگرچہ اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں کہ کیوں ان میں یہ قوتیں ہیں۔ لیکن جبکہ تکرار تجربہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ ضرور ان چیزوں میں یہ قوتیں پائی جاتی ہیں۔ تو گو ان کی کیفیت وجود پر عقلی طور پر کوئی دلیل قائم نہ ہو۔ لیکن بضرورت شہادت قاطعہ تجربہ اور امتحان کے ہریک عاقل کو ماننا پڑتا ہے کہ فی الحقیقت تربد میں قوت اسہال اور مقناطیس میں خاصہ جذب موجود ہے۔ اور اگر کوئی ان کے وجود سے اس بناء پر انکار کرے کہ عقلی طور پر مجھ کو کوئی دلیل نہیں ملتی تو ایسے شخص کو ہریک دانا پاگل اور دیوانہ جانتا ہے اور سودائی اور مسلوب العقل قرار دیتا ہے۔