تو تم جان لو کہ یہ کلام علم انسان سے نہیں بلکہ خداکےؔ علم سے نازل ہوا ہے۔ جس کے علم وسیع اور تام کے مقابلہ پر علوم انسانیہ بے حقیقت اور ہیچ ہیں۔ اس آیت میں
پس سمجھنا چاہیئے کہ جس طرح آفتاب کی روشنی صرف آسمان سے آتی ہے آنکھ کے اندر سے پیدا نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح نور الہام کا بھی خاص خدا کی طرف سے اور اس کے ارادہ سے نازل ہوتا ہے۔ یونہی اندر سے جوش نہیں مارتا۔ جبکہ خدا فی الواقع موجود ہے اور فی الواقع وہ دیکھتا سنتا جانتا کلام کرتا ہے تو پھر اس کا کلام اسی حی و قیوم کی طرف سے نازل ہونا چاہیئے نہ یہ کہ انسان کے اپنے ہی خیالات خدا کا کلام بن جائیں۔ ہمارے اندر سے وہی خیالات بھلے یا برے جوش مارتے ہیں کہ جو ہمارے اندازۂ فطرت کے مطابق ہمارے اندر سمائے ہوئے ہیں۔ مگر خدا کے بے انتہا علم اور بے شمار حکمتیں ہمارے دل میں کیونکر سما سکیں۔ اس سے زیادہ تر اور کیا کفر ہوگا۔ کہ انسان ایسا خیال کرے کہ جس قدر خدا کے پاس خزائن علم و حکمت و اسرار غیب ہیں۔ وہ سب ہمارے ہی دل میں موجود ہیں اور ہمارے ہی دل سے جوش مارتے ہیں۔ پس دوسرے لفظوں میں اس کا خلاصہ تو یہی ہوا کہ حقیقت میں ہم ہی خدا ہیں اور بجز ہمارے اور کوئی ذات قائم بنفسہ اور متصف بصفاتہ موجود نہیں جس کو خدا کہا جائے۔ کیونکہ اگر فی الواقعہ خدا موجود ہے اور اس کے علوم غیر متناہی اسی سے خاص ہیں۔ جن کا پیمانہ ہمارا دل نہیں ہوسکتا۔ تو اس صورت میں کس قدر یہ قول غلط اور بیہودہ ہے کہ خدا کے بے انتہا علوم ہمارے ہی دل میں بھرے پڑے ہیں اور خدا کے تمام خزائن حکمت ہمارے ہی قلب میں سمارہے ہیں۔ گویا خدا کا علم اسی قدر ہے جس قدر ہمارے دل میں موجود ہے۔ پس خیال کرو کہ اگر یہ خدائی کا دعویٰ نہیں تو اور کیا ہے۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کا دل خدا کے جمیع کمالات کا جامع ہوجائے؟ کیا یہ جائز ہے کہ ایک ذرّہ امکان آفتاب وجوب بن جائے۔ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ ہم پہلے ابھی لکھ چکے ہیں کہ الوہیت کے خواص جیسے علم غیب اور احاطہ دقائق حکمیہ اور دوسرے قدرتی نشان انسان سے ہرگز ظہور پذیر نہیں ہوسکتے۔ اور خدا کا کلام وہ ہے۔ جسمیں خدا کی عظمت خدا کی قدرت خدا کی برکتؔ ۔ خدا کی حکمت۔ خدا کی بے نظیری پائی جاوے۔ سو وہ تمام