3۔۱ الجزو نمبر ۲۱۔
یعنے اگر کفار اس قرآن کی نظیر پیش نہ کرسکیں اور مقابلہ کرنے سے عاجز رہیں۔
سوجھ ہی جاتی ہے۔ صالح آدمی نیک راہ میں فکر کرکے نیک باتیں نکالتا ہے اور چور نقب زنی کے باب میں فکر کرکے کوئی عمدہ طریق نقب زنی کا ایجاد کرتا ہے۔ غرض جس طرح بدی کے بارے میں انسان کو بڑے بڑے عمیق اور نازک بدی کے خیال سوجھ جاتے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس اسی وقت کو جب انسان نیک راہ میں استعمال کرتا ہے تو نیکی کے عمدہ خیال بھی سوجھ جاتے ہیں اور جس طرح بدخیالات گو کیسے ہی عمیق اور دقیق اور جادو اثر کیوں نہ ہوں خدا کا کلام نہیں ہوسکتے ایسا ہی انسان کے خودتراشیدہ خیالات جن کو وہ اپنے زعم میں نیک سمجھتا ہے۔ کلامِ الٰہی نہیں ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جو کچھ نیکوں کو نیک حکمتیں یا چوروں اور ڈاکوؤں اور خونیوں اور زانیوں اور جعلسازوں کو فکر اور نظر کے بعد بری تدبیریں سوجھتی ہیں وہ فطرتی آثار اور خواص ہیں اور بوجۂ علّت العلل ہونے حضرت باری کے ان کو خلق اللہ کہا جاتا ہے نہ امر اللہ۔ وہ انسان کے لئے ایسے ہی فطرتی خواص ہیں جیسے نباتات کے لئے قوت اسہال یا قوت قبض یا دوسری قوتیں فطرتی خواص ہیں غرض جیسا اور چیزوں میں حکیم مطلق نے طرح طرح کے خواص رکھے ہیں۔ ایسا ہی انسان کی قُوتِ مُتفکّرہ میں یہ خاصہّ رکھا ہے کہ جس نیک یا بد میں انسان اُس سے مدد لینا چاہتا ہے۔ اسی قسم کی اس سے مدد ملتی ہے۔ ایک شاعر کسی کی ہجو میں شعر بناتا ہے۔ اس کو فکر کرنے سے ہجو کے شعر سوجھتے جاتے ہیں۔ دوسرا شاعر اسی شخص کی تعریف کرنی چاہتا ہے اس کو تعریف کا ہی مضمون سوجھتا ہے۔ سو اس قسم کے خیالات نیک اور بد خدا کی خاص مرضی کا آئینہؔ نہیں ہوسکتے اور نہ اس کا کام اور کلام کہلا سکتے ہیں۔ خدا کا پاک کلام وہ کلام ہے کہ جو انسانی قویٰ سے بکلی برتر و اعلیٰ ہے اور کمالیت اور قدرت اور تقدس سے بھرا ہوا ہے جس کے ظہور و بروز کے لئے اول شرط یہی ہے کہ بشری قُوَتیں بکلّی مُعطّل اور بیکار ہوں نہ فکر ہو نہ نظر ہو۔ بلکہ انسان مثل میّت کے ہو۔ اور سب اسباب منقطع ہوں اور خدا جس کا وجود واقعی اور حقیقی ہے آپ اپنے کلام کو اپنے خاص ارادہ سے کسی کے دل پر نازل کرے۔