والعلم افضل اور اعلیٰ ہیں وہ فصاحت بیانی اور رفعت معانیؔ میں یکساں ہوجائیں اور کچھ مابہ الامتیاز باقی نہ رہے۔ تو اس صداقت کا ثابت ہونا اس دوسری صداقت
عدم شے پر دلیل ٹھہراتا ہے اور ہزارہا صاحب تجربہ لوگوں کی شہادت کو قبول نہیں کرتا۔ بھلا یہ کیونکر ہوسکے کہ قوانین قدرتیہ کے لئے یہ بھی شرط ہو کہ ہریک فرد بشر عام طور پر خود ان کو آزما لیوے ۔خدا نے نوع انسان کو ظاہری و باطنی قوتوں میں متفاوت پیدا کیا ہے۔ مثلاً بعض کی قوّت باصرہ نہایت تیز ہے بعض ضعیف البصر ہیں۔ بعض بعض اندھے بھی ہیں۔ جو ضعیف البصر ہیں وہ جب دیکھتے ہیں کہ تیز بصارت والوں نے دور سے کسی باریک چیز کو مثلاً ہلال کو دیکھ لیا تو وہ انکار نہیں کرتے بلکہ انکار کرنا اپنی ذلّت اور پردہ دری کا موجب سمجھتے ہیں اور اندھے بیچارے تو ایسے معاملہ میں دم بھی نہیں مارتے۔ اسی طرح جن کی قوت شامہ مفقود ہے وہ صدہا ثقہ اور راستگو لوگوں کی زبان سے خوشبو بدبو کی خبریں جب سنتے ہیں تو ؔ یقین کرلیتے ہیں اور ذرہ شک نہیں کرتے اور خوب جانتے ہیں کہ اس قدر لوگ جھوٹ نہیں بولتے ضرور سچے ہیں اور بلاشبہ ہماری ہی قوت شامّہ ندارد ہے کہ جو ہم ان مشمومات کے دریافت کرنے سے محروم ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس باطنی استعدادوں میں بھی بنی آدم مختلف ہیں بعض ادنیٰ ہیں اور ُ حجبِ نفسانی میں محجوب ہیں اور بعض قدیم سے ایسے نفوس عالیہ اور صافیہ ہوتے چلے آئے ہیں کہ جو خدا سے الہام پاتے رہے ہیں اور ادنیٰ فطرت کے لوگ کہ جو محجوب النفس ہیں ان کا نفوسِ عالیہ لطیفہ کے خصائصِ ذاتیہ سے انکار کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی اندھا یا ضعیف البصر صاحب بصارتِ قویّہ کے مرئیات سے انکار کرے یا جیسا ایک اَخشم آدمی جس کی قُوّتِ بویائی ابتدا پیدائش سے ہی باطل ہو۔ صاحبِ قُوّ تِ شامہ کے مشمومات سے مُنکر ہو۔
اور پھر مُنکر کے مُلزم کرنے کے لئے بھی جو ظاہری طور پر تدابیر ہیں وہی باطنی طور پر بھی تدابیر موجود ہیں مثلاً جس کی قُوّت شامہ کا مفقود ہونا بعلّت مولودی ہے اگر وہ خوشبو بدبو کے وجود سے منکر ہو بیٹھے اور جس قدر لوگ صاحبِ قُوّت شامّہ ہیں سب کو دروغگو یا وہمی قرار دے تو اس کو یوں سمجھا سکتے ہیں کہ اس کو یہ کہا جائے کہ وہ بہت سی چیزوں مثلاً پارچات میں سے بعض پر عطر مل کر اور بعض کو خالی رکھ کر صاحبِ قُوّتِ شامّہ