پس جبکہ من کل الوجوہ ثابت ہے کہ ؔ جو فرق علمی اور عقلی طاقتوں میں مخفی ہوتا ہے۔ وہ ضرور کلام میں ظاہر ہوجاتا ہے اور ہرگز ممکن ہی نہیں کہ جو لوگ من حیث العقل نہ چاہا اور جس قدر پیاس لگا دی اس قدر پانی دینا منظور نہ ہوا۔ مگر دانشمند لوگ اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ ایسا خیال سراسر خدا کی عظیم الشان رحمتوں کی ناقدر شناسی ہے۔ جس حکیم مطلق نے انسان کی ساری سعادت اس میں رکھی ہے کہ وہ اِسی دنیا میں الوہیت کی شعاعوں کو کامل طور پر دیکھے تا اس زبردست کشش سے خدا کی طرف کھینچا جائے۔ پھر ایسے کریم اور رحیم کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ انسانؔ کو اپنی سعادت مطلوبہ اور اپنے مرتبہ فطرتیہ تک پہنچانا نہیں چاہتا۔ یہ حضرات برہمو کی عجب عقلمندی ہے۔ وسوسہ نہم:۔ یہ اعتقاد کہ خدا آسمان سے اپنا کلام نازل کرتا ہے یہ بالکل درست نہیں کیونکہ قوانین نیچریہ اس کی تصدیق نہیں کرتے اور کوئی آواز اوپرسے نیچے کو آتی ہم کبھی نہیں سنتے۔ بلکہ الہام صرف ان خیالات کا نام ہے کہ جو فکر اور نظر کے استعمال سے عقلمند لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں وبس۔ جواب:۔ جو صداقت بجائے خود ثابت ہے اور جس کو بے شمار صاحب معرفت لوگوں نے بچشم خود مشاہدہ کرلیا ہے اور جس کا ثبوت ہرزمانہ میں طالب حق کو مل سکتا ہے اگر اس سے کوئی ایسا انسان منکر ہو کہ جو روحانی بصیرت سے بے بہرہ ہے یا اگر اس کی تصدیق سے کسی محجوب القلب کا فکر قاصر اور علم ناقص ناکام رہے تو اس صداقت کا کچھ بھی نقصان نہیں اور نہ وہ ایسے لوگوں کے بک بک کرنے سے قوانین قدرتیہ سے باہر ہوسکتی ہے مثلاً تم سوچو کہ اگر کوئی اس قوت جاذبہ سے جو مقناطیس میں ہے بے خبر ہو اور اس نے کبھی مقناطیس دیکھا ہی نہ ہو اور یہ دعویٰ کرے کہ مقناطیس ایک پتھر ہے اور جہاں تک قوانین قدرتیہ کا مجھے علم ہے اس طور کی کشش کو میں نے کبھی کسی پتھر میں مشاہدہ نہیں کیا اس لئے میری رائے میں جو مقناطیس کی نسبت ایک خاصیتِ جذب خیال کی گئی ہے وہ غلط ہے کیونکہ قوانین نیچریہ کے برخلاف ہے۔ تو کیا اس کی اس فضول گوئی سے مقناطیس کی ایک متحقق خاصیت غیر معتبر اور مشکوک ہوجائے گی ہرگز نہیں بلکہ ایسے نادان کی ان فضول باتوں سے اگر کچھ ثابت بھی ہوگا تو یہی ثابت ہوگا کہ وہ سخت درجہ کا احمق اور جاہل ہے کہ جو اپنے عدم علم کو