کے ثبوت کو مستلزم ہے کہ جو کلام خداکا کلام ہو اس کا انسانی کلام سے اپنےؔ ظاہری کا امتحان کرلے تا تکرار تجربہ سے اس کو اس بات پر یقین ہوجائے کہ قُوّ تِ شامہ کا وجود بھی واقعی اور حقیقی ہے اور ایسے لوگ فی الحقیقت پائے جاتے ہیں کہ جو معطّر اور غیر معطّر میں فرق کرلیتے ہیں۔ ایسا ہی تکرار تجربہ سے الہام کا وجود طالب حق پر ثابت ہوجاتا ہے کیونکہ جب صاحب الہام پر وہ اُمورِ غیبیہ اور دقائق مخفیہ مُنکشف ہوتے ہیں کہ جو مجرد عقل سے منکشف نہیں ہوسکتے اور کتاب الہامی ان عجائبات پر مشتمل ہوتی ہے جن پر کوئی دوسری کتاب مشتمل نہیں ہوتی تو طالب حق اسی دلیل سے سمجھ لیتا ہے کہ الہام الٰہی ایک مُتحققّ الوجود صداقت ہے۔ اور اگر نفوسِ صافیہ میں سے ہو تو خود ٹھیک ٹھیک راہ راست پر چلنے سے کسی قدر بہ حیثیّتِ نورانیّتِ قلب اپنے کے الہام الٰہی کو اولیاء اللہ کی طرح پابھی لیتا ہے جس سے وحئرسالت پر بطور حق الیقین اس کو علم حاصل ہوجاتا ہے چنانچہ طالب حق کے لئے کہ جو اسلام کے قبول کرنے پر دلی سچائی اور روحانی صدق اور خالص اطاعت سے رغبت ظاہر کرے ہم ہی اس طور پر تسلی کردینے کا ذمہ اٹھاتے ہیں۔ وان کان احد فی شک من قولی فلیرجع الینا بصدؔ ق القدم واللہ علی مانقول قدیر وھو فی کل امر نصیر۔ اور یہ خیال کرنا کہ جو جو دقائقِ فکر اور نظر کے استعمال سے لوگوں پر کُھلتے ہیں وہی الہام ہیں۔ بجز ان کے اور کوئی شے الہام نہیں۔ یہ بھی ایک ایسا وہم ہے جس کا موجب صرف کور باطنی اور بے خبری ہے۔ اگر انسانی خیالات ہی خدا کا الہام ہوتے تو انسان بھی خدا کی طرح بذریعہ اپنے فکر اور نظر کے امور غیبیہ کو معلوم کرسکتا لیکن ظاہر ہے کہ گو انسان کیسا ہی دانا ہو مگر وہ فکر کرکے کوئی امرغیب بتلا نہیں سکتا اور کوئی نشان طاقت الوہیّت کا ظاہر نہیں کرسکتا اور خدا کی قدرت خاصہ کی کوئی علامت اس کے کلام میں پیدا نہیں ہوتی۔ بلکہ اگر وہ فکر کرتا کرتا مر بھی جائے۔ تب بھی ان پوشیدہ باتوں کو معلوم نہیں کرسکتا کہ جو اس کی عقل اور نظر اور حواس سے وراء الوراء ہیں اور نہ اس کا کلام ایسا عالی ہوتا ہے کہ جس کے مقابلہ سے انسانی قوتیں عاجز ہوں۔ پس اس وجہ سے عاقل کو یقین کرنے کے لئے وجوہ کافی ہیں کہ جو کچھ انسان اپنی فکر اور نظر سے بھلے یا برے