​ تقریرؔ میں بکمال صحت و حقانیت اور بہ نہایت متانت و بلاغت بیان کرسکتا ہے۔ اس کے مقابلے پر کوئی دوسرا شخص جس کو فن طبابت سے ایک ذرہ مس نہیں اس کو بیان کیا ہے۔ بطور کتھا یا قصہ نہیں۔ دوسری یہ خوبی کہ اس میں تمام ضروریات علم معاد کی تفصیل کی گئی ہے۔ اور پھر فرمایا۔ 3۔ ۱؂ یعنے علم معاد میں جس قدر تنازعات اٹھیں سب کا فیصلہ یہ کتاب کرتی ہے۔ بے سود اور بیکار نہیں ہے۔ اور پھر فرمایا۔3 3۔ الجزو نمبر ۴۱۔۲؂ یعنے ہم نے اس لئے کتاب کو نازل کیا ہے تا جو اختلافات عقول ناقصہ کے باعث سے پیدا ہوگئے ہیں یا کسی عمداً افراط و تفریط کرنے سے ظہور میں آئے ہیں ان سب کو دور کیا جائے۔ اور ایمانداروں کے لئے سیدھا راستہ بتلایا جاوے۔ اس جگہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو فساد بنی آدم کے مختلف کلاموں سے پھیلا ہے اُس کی اصلاح بھی کلام ہی پر موقوف ہے یعنے اس بگاڑ کے درست کرنے کے لئے جو بیہودہ اور غلط کلاموں سے پیدا ہوا ہے ایسے کلام کی ضرورت ہے کہ جو تمام عیوب سے پاک ہو کیونکہ یہ نہایت بدیہی بات ہے کہ کلام کا رہزدہ کلام ہی کے ذریعہ سے راہ پر آسکتا ہے۔ صرف اشاراتِ قانونِ قدرت تنازعات کلامیہ کا فیصلہ نہیں کرسکتے اور نہ گمراہ کو اس کی گمراہی پر بصفائی تمام ملزم کرسکتے ہیں۔ جیسے اگر جج نہ مدعی کی وجوہات بہ تصریح قلمبند کرے۔ نہ مدعا علیہ کے عذرات کو بدلائل قاطعہ توڑے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ صرف اس کے اشارات سے فریقین اپنے اپنے سوالات و اعتراضات و وجوہات کا جواب پالیں اور کیونکر ایسے مبہم اشارات پر جن سے کسی فریق کا باطمینان کامل رفع عذر نہیں ہوا حکم اخیر مترتب ہوسکتا ہے۔ اسی طرح خدا کی حجت بھی بندوں پر تب ہی پوری ہوتی ہے کہ جب اس کی طرف سے یہ التزام ہو کہ جو لوگ غلط تقریروں کے اثر سے طرح طرح کی بدعقیدگی میں پڑگئے ہیں ان کو بذریعہ اپنی کامل و صحیح تقریر کے غلطی پر مطلع کرے اور مدلل اور واضح بیان سے ان کا گمراہ ہونا ان کو جتلا دے تا اگر اطلاع پاکر پھر بھی وہ باز نہ آویں اور غلطی کو