میں بھی یکتا ہے اور نظم اور نثر میں سرآمد روزگار ہے۔ جیسے وہ ایک مرض کے حدوث کی کیفیت اور اُس کی علامات اور اسباب فصیح اور وسیع
ایک شخص پر یہ بات کھل جاتی ہے کہ خدا کا کلام برحق ہے اور اس کا ہریک وعدہ ضرور ایک دن ہونے والا ہے۔ تو اسی وقت دنیا کی محبت اس پر سرد ہوجاتی ہے۔ ایک دم میں وہ کچھ اور ہی چیز ہوجاتا ہے اور کسی اور ہی مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ کیا ایمان کے رو سے اور کیا عمل کے رو سے اور کیا جزا سزا کی امید کے رو سے کھلا ہوا اور مفتوح دروازہ خدا کے سچے الہام اور پاک کلام کا دروازہ ہے وبس۔
کلام پاک آں بیچوں دہد صد جام عرفاں را
کسے کو بیخبر زاں می چہ داند ذوق ایماں را
نہ چشم است آنکہ در کوری ہمہ عمرے بسر کرد است
نہ گوش است آنکہ نہ شنیدست گاہے قول جاناں را
وسوسۂ ہفتم;۔ کسی کتاب پر علم الٰہی کی ساری صداقتیں ختم نہیں ہوسکتیں پھر کیونکر امید کی جائے کہ ناقص کتابیں کامل معرفت تک پہنچادیں گی۔
جواب۔ یہ وسوسہ اس وقت تک قابل التفات ہوتا کہ جب برہم سماج والوں میں سے کوئی صاحب اپنی عقل کے زور سے خداشناسی یا کسی دوسرے امر معاد کے متعلق کوئی ایسی جدید صداقت نکالتا جس کا قرآن شریف میں کہیں ذکر نہ ہوتا۔ اور ایسی حالت میں بلاشبہ حضرات برہمو بڑے ناز سے کہہ سکتے تھے کہ علم معاد اور خداشناسی کی ساری صداقتیں کتاب الہامی میں مندرج نہیں۔ بلکہ فلاں فلاں صداقت باہر رہ گئی ہے جس کو ہم نے دریافت کیا ہے۔ اگر ایسا کرکے دکھلاتے تب تو شاید کسی نادان کو کوئی دھوکا بھی دے سکتے۔ پر جس حالت میں قرآن شریف کھلا کھلا دعویٰؔ کررہا ہے33 الجزو نمبر ۰۳ ۱ یعنی کوئی صداقت علم الہٰی کے متعلق جو انسان کیلئے ضروری ہے اس کتاب سے باہر نہیں۔اور پھر فرما یا۔3۔ الجزونمبر۰۳۔۲ یعنے خدا کا رسول پاک صحیفے پڑھتا ہے۔ جن میں تمام کامل صداقتیں اور علوم اولین و آخرین درج ہیں۔ اور پھر فرمایا۔ 3۔ الجزو نمبر ۱۱۔۳ یعنے اس کتاب میں دو خوبیاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکیم مطلق نے محکم اور مدلل طور پر یعنے علوم حکمیہ کی طرح