اور فن سخن کی نزاکتوں سے بھی ناآشناؔ محض ہے ممکن نہیں کہ مثل اسکے بیان کرسکے۔ یہ بات بہت ہی ظاہر اورعام فہم ہے کہ جاہل اورعاقل کی تقریرمیں ضرور کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے ​ نہ چھوڑیں تو سزا کے لائق ہوں۔ خدائے تعالیٰ ایک کو مجرم ٹھہرا کر پکڑلے اور سزا ؔ دینے کو طیار ہوجائے۔ مگر بیان واضح سے اس کے دلائل بریت کا غلط ہونا ثابت نہ کرے اور اس کے دلی شبہات کو اپنی کھلی کلام سے نہ مٹادے۔ کیا یہ اُس کا منصفانہ حکم ہوگا؟ پھر اسی کی طرف دوسری آیت میں بھی اشارہ فرمایا۔ 3۔۱؂ الجزو نمبر ۲۔ یعنے قرآن میں تین صفتیں ہیں۔ اوّل یہ کہ جو علوم دین لوگوں کو معلوم نہیں رہے تھے ان کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔ دوسرے جن علوم میں پہلے کچھ اجمال چلا آتا تھا۔ ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ تیسرے جن امور میں اختلاف اور تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔ ان میں قول فیصل بیان کرکے حق اور باطل میں فرق ظاہر کرتا ہے۔ اور پھر اسی جامعیت کے بارے میں فرمایا۔ 3۔۲؂ الجزو نمبر ۵۱۔ یعنے اس کتاب میں ہریک علم دین کو بہ تفصیل تمام کھول دیا ہے۔ اور اس کے ذریعہ سے انسان کی جزئی ترقی نہیں بلکہ یہ وہ وسائل بتلاتا ہے اور ایسے علوم کاملہ تعلیم فرماتا ہے جن سے کلی طور پر ترقی ہو۔ اور پھر فرمایا۔3۔۳؂ الجزو نمبر ۴۱۔یعنی یہ کتاب ہم نے اس لئے تجھ پر نازل کی کہ تاہریک دینی صداقت کو کھول کر بیان کردے اور تا یہ بیان کامل ہمارا ان کے لئے جو اطاعت الٰہی اختیار کرتے ہیں موجب ہدایت و رحمت ہو۔ اور پھر فرمایا۔3۔۴؂ الجزو نمبر ۳۱۔یعنی یہ عالی شان کتاب ہم نے تجھ پر نازل کی تاکہ تو لوگوں کو ہریک قسم کی تاریکی سے نکال کر نور میں داخل کرے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جس قدر انسان کے نفس میں طرح طرح کے وساوس گزرتے ہیں اور شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ ان سب کو قرآن شریف دور کرتا ہے۔ اور ہریک طور کے خیالات فاسدہ کو مٹاتا ہے اور معرفت کامل کا نور بخشتا ہے یعنے جو کچھ خدا کی طرف رجوع ہونے اور اس پر یقین لانے کے لئے معارف و حقائق درکار ہیں سب عطا فرماتا ہے۔ اور پھر فرمایا۔ 3